1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اقتصادی بحران کے نوجوانوں پر اثرات

اقتصادی بحران، جزوقتی ملازمتیں اوروسیع پیمانے پر ملازمتوں میں کٹوتی جیسی خبریں جرمن نوجوانوں میں مستقبل کے حوالے سے مایوسی پیدا کر رہی ہیں۔

default

مالیاتی بحران کا نوجوانوں پر بہت منفی اثر پڑ رہا ہے

اقتصادی بحران، جزوقتی ملازمتیں اوروسیع پیمانے پرملازمتوں میں کٹوتی جیسی خبریں آئے دن ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہی ہیں۔ ایسے حالات میں نوجوان طلبہ کیا سوچتے ہیں؟ نوجوان اس بات کا اندازہ نہیں لگا پارہے ہیں کہ تعیلم مکمل کرنے کے بعد کے حالات کیسے ہوسکتے ہیں؟

معاملہ کافی سنجیدہ ہے؟ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آخر ہو گا کیا؟ جبکہ پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے والے نوجوان یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا اس کے بعد کسی اور تربیتی کورس میں داخلہ لینا پڑے گا؟ عالمی مالیاتی بحران جرمنی کے معماروں پر منفی طریقے سے اثر انداز ہو رہا ہے۔

G20 Gipfel Demonstrationen

مالیاتی بحران کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں طلباء پیش پیش ہیں

ملازمت کا ملنا مشکل ہے

اس کی ایک مثال الیگزینڈرگریف کی ہے جو پراعتماد ہو نے کے ساتھ ساتھ باصلاحیت بھی ہے۔ 22 سالہ الیگزینڈر جرمنی کے شہربون میں رنگ و روغن کی تربیت حاصل کر رہا ہے اور جلد ہی اس کی یہ پیشہ ورانہ تربیت مکمل ہونے والی ہے۔ لیکن تربیت ختم ہونے کے بعد کیا ہو گا؟ اس بارے میں الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ اس نے ابھی ملازمت کے درخواست دینے کے بارے میں نہیں سوچا کیونکہ وہ پرامید ہے کہ جس کمپنی میں وہ تربیت حاصل کر رہا ہے اسے وہیں ملازمت مل جائے گی۔

الیگزینڈر کے ماسٹراسٹیفن شمٹزاس کی کارکردگی سے بے حد متاثر ہیں۔ لیکن وہ بھی ان حالات میں اپنے شاگرد سے ملازمت کے حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کر سکتے۔ حالات ہی ایسے ہیں! اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ الیگزینڈر کا شماران کے بہترین شاگردوں میں ہوتا ہے۔ اس کو ملازمت ملنے کی توقع بہت زیادہ ہے لیکن اس کا انحصار معاشی صورتحال کی بہتری پر ہے۔ اس حوالے سے سوچ بہت امید پسندانہ ہے۔

Studentenstreik in Frankeich Abstimmung Studenten

نوجوان تعلیم کے بعد نوکریاں حاصل کرنے کے بارے میں فکرمند ہیں

مستقبل کے حوالے سےغیر یقینی کی کیفیت

اس صورتحال میں الیگزینڈراپنے مستقبل کی منصوبہ بندی مکمل طور پرنہیں کرسکتا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی یپیشہ ورانہ تربیت مکمل کرکے بے روز گار ہی رہے۔ اس حوالے سے اسے کوئی پریشانی تو نہیں ہے لیکن بے چینی ضرور ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں سوچتا ہے کہ آخرمستقبل میں کیا ہو گا؟ خاص طورایک ایسے وقت میں جب کمپنی کو نئے آرڈرز نہیں مل رہے ہیں۔ کمپنی کو تمام ملازمین کو روز گار فراہم کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اس لئے اسے یہ سوچنا پڑرہا ہے کہ یہاں آگے کام ملنا ممکن ہو گا بھی یا نہیں؟

میں اپنے ہی شعبے میں رہوں گا،الیگزینڈر

الیگزینڈرمستقبل میں رنگ و روغن کے شعبے سے ہی منسلک رہنا چاہتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مقابلے میں ایک قدم آگے ہے۔ الیگزینڈرکا خیال ہے کہ روزگار کی یہ صورتحال غیرمستحکم اورکافی کشیدہ ہے اوراگراس میں کوئی بہتری نہیں آتی ہے تو مستقبل میں اس کے منفی نتائج مرتب ہوں گے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ الیگزینڈراقتصادی بحران اور روزگار کی منڈی کے حوالے سے کی جانے والی منفی پیشین گوئیوں کے باوجود خود کواس صورتحال سے متاثر نہیں ہونے دینا چاہتے۔