1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اقتصادی بحران کی وجہ سے برطانیہ کو درپیش شدید مشکلات

بین الاقوامی اقتصادی بحران نے یورپ میں بینکاری کی صنعت کے مراکز میں شمار ہونے والے لندن کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور اس وجہ سے گذشتہ مہینوں کے دوران برطانیہ میں مجموعی طور پر بے روزگاری کی شرح میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

default

بینک آف انگلینڈ کے سربراہ Mervyn King

برطانوی معیشت کے بارے میں ہر ہفتہ ہی بری خبریں سننے میں آرہی ہیں۔ اب لندن میں مرکزی بینک کے سربراہMervyn King نے بھی کہہ دیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ IMF نے تو برطانیہ کی معیشی پیداوار میں سال رواں کے دوران چار فیصد تک کی کمی کی پیش گوئی کی ہے لیکن بینک آف انگلینڈ کے اندازوں کے مطابق یہ کمی چار فیصد سے کہیں زیادہ ہو گی۔

میرون کنگ کے بقول یہ خطرہ بھی ہے کہ موجودہ کساد بازاری اب تک کے اندازوں کے برعکس زیادہ شدید اور طویل ہو گی۔ " تمام منفی امکانات تنزلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اور یہ خطرات اس لئے شدید نوعیت کے ہیں کہ ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ آیا دنیا بھر کی حکومتوں کے استحکامی اقدامات مئوثر ثابت ہوں گے اور مالیاتی ادارے دوبارہ قرضے جاری کرنا شروع کردیں گے۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ آیا معاشی حفاظتی اقدامات عالمی تجارت کے لئے اضافی رکاوٹوں کا سبب بنیں گے۔"

Währung Dollar Euro Pfund Yen

گزشتہ کچھ عرصے سے برطانوی پاؤنڈ مسلسل دباؤ کا شکار ہے

برطانیہ میں توانائی کے شعبے میں ہزاروں کارکنوں کی اچانک کی جانے والی حالیہ ہڑتالیں بھی اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ کہیں یورپ میں روزگار کی کھلی منڈی کا دورختم تو نہیں ہو گیا۔ "برطانیہ میں روزگار برطانوی کارکنوں کے لئے"، ہڑتالی ملازمین کا صرف یہ ایک نعرہ ہی اس وضاحت کے لئے کافی ہے کہ برطانیہ میں روزگار کی منڈی کتنے دباؤ کا شکار ہے۔

برطانیہ میں بے روزگارافراد کی تعداد ابھی حال ہی میں دو ملین سے تجاوز کرگئی جو کل افرادی قوت کا 6.3 فیصد بنتا ہے۔ چند ماہ قبل بے روزگار ہوجانے والے ایک سول انجینئر Steve Mattock کہتے ہیں: "جب سے میری ملازمت ختم ہوئی ہے، نئی نوکری کے لئے 300 سے زائد درخواستیں دینے کے باوجود کسی ایک بھی ادارے نے مجھے انٹرویو کے لئے نہیں بلایا۔ مجھے اپنی زندگی میں پہلے بھی چار مرتبہ بے روزگاری کا سامنا رہا ہے لیکن اس مرتبہ تو صورت حال انتہائی مشکل ہے۔"

برطانیہ میں اس وقت ملکی معیشت کی حالت اتنی خراب ہے کہ عوامی شعبے میں نئے قرضوں کی شرح اگلے برس سالانہ بجٹ کے کم ازکم 10 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ بینک آف انگلینڈ مرکزی شرح سود مزید کم کرکے صرف ایک فیصد کرچکا ہے اور برطانوی پاؤنڈ کی قدر وقیمت بھی قریب ایک چوتھائی کم ہو چکی ہے۔ ایسے میں ایک آخری حل یہ بچا ہے کہ کہیں لندن حکومت اضافی کرنسی نوٹ چھاپنے پر مجبور نہ ہوجائے۔