1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقتصادی امور پر امریکہ سے اختلاف نہیں، انگیلا میرکل

گروپ ایٹ کے اجلاس میں امریکہ اور یورپ عالمی معیشت کی بحالی کے ’نازک‘ مرحلے میں اقتصادی پالیسیوں کے ٹکراؤ سے بچنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ دنیا کے آٹھ سرفہرست صنعتی ممالک کی اس تنظیم کا دو روزہ اجلاس کینڈا میں جاری ہے۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لئے یورپی حکام کی خواہش ہے کہ اخراجات میں کمی کی جائے جبکہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایسا کرنے سے معاشی بحالی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اجلاس کے پہلے روز رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ بڑھتے بجٹ خسارے پر قابو پانے کی کوششوں میں تیزی لاتے ہوئے مالیاتی توازن قائم کریں۔ تاہم چانسلر میرکل اور امریکی حکام یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ یہ بیان امریکہ اور یورپ کے مابین سوچ کے تضاد کو ظاہر نہیں کرتا۔ دونوں جانب سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ معاشی بحالی کے عمل اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کی کوششوں میں توازن پیدا کرنا ہی اصل مقصد ہے۔

Barack Obama Rede an die Nation NO FLASH

امریکی صدر باراک اوباما

چانسلر میرکل کا کہنا تھا، ’’میں یہ واضح کرچکی ہوں کہ ہمیں متوازن اقتصادی ترقی کی ضرورت ہے اور اس ترقی کا کفایت شعاری کے اقدامات سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔‘‘

کینیڈا میں صحافیوں کو اجلاس کے پہلے دن سے متعلق بتاتے ہوئے جرمن چانسلر نے بتایا، ’’ بات چیت متنازعہ نہیں تھی، بہت سے امور پر اتفاق رائے موجود ہے۔‘‘

امریکی سفارتی ذرائع کے مطابق صدر باراک اوباما کو جرمنی کی جانب سے اخراجات میں کمی کے منصوبوں سے متعلق خدشات لاحق نہیں ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک امریکی عہدیدار نے کہا، ’’ صدر اوباما بجٹ خسارے پر قابو پانے کی کوششوں کو وسط اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کی پالیسی تصور کرتے ہیں۔‘‘

یاد رہے کہ یورپی حکام یونان کو درپیش مالی بحران کے بعد سے انتہائی محتاط ہوگئے ہیں اور اپنے اپنے ممالک میں حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی کے منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔ جرمن حکومت اگلے چار سال میں حکومتی اخراجات میں 80 ارب یورو کی کمی کا ارادہ رکھتی ہے۔

G8 Gipfel Frauen Kinder Gesundheit

جی ایٹ کے پہلے روز ترقی پذیر ممالک میں زچہ و بچہ کی صحت کے لئے سات اعشاریہ تین ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا

برطانیہ کی نئی حکومت بھی حکومتی اخراجات میں تاریخی کمی کرکے 155 ارب پونڈ کے بجٹ خسارے پر قابو پانا چاہتی ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور جی ایٹ کے چند دیگر رکن ممالک کو خدشہ ہے کہ اخراجات میں اتنے بڑے پیمانے پر کٹوتی سے ملازمتوں اور صارفین کی قوت خرید پر اثر پڑ سکتا ہے جو آخر کار اقتصادی بحالی کے عمل کو متاثر کرے گا۔

کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے ہنٹس ویل نامی شہر میں امریکہ، جرمنی، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جاپان اور روس کے رہنماؤں نے بند کمروں میں ملاقات کی اور بعد میں افریقی ممالک کے رہنماؤں کے ایک گروپ سے بھی ملاقات کی۔

دنیا کے یہ آٹھ سرفہرست صنعتی ممالک اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے منصوبوں پر ہفتے سے شروع ہونے والے جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں تبادلہ خیال کریں گے۔ جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں چینی صدر ہو جن تاؤ اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ بھی شرکت کر رہے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM