1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقتدار نہیں چھوڑوں گا، معمر قذافی

لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی نے اقتدار چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت مخالف مظاہروں کو ملک کی بدنامی کی وجہ قرار دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے لیبیا میں شہریوں پر تشدد کی مذمت کی ہے۔

default

لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی

معمر قذافی کی جانب سے یہ بیان لیبیا میں گزشتہ ہفتے سے جاری سیاسی بحران کے بعد منگل کو ان کی پہلی اہم تقریر میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی نظریں لیبیا پر لگی ہیں اور مظاہروں سے ’شیطان کو فائدہ‘ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ باہر نکلیں اور ان کے مخالفین کا مقابلہ کریں۔

Libyen Unruhen Proteste in Bengasi

لیبیا کے شہر بن غازی میں حالیہ مظاہرے کا منظر

قذافی نے کہا کہ انہوں نے لیبیا کو شان و شوکت کی منزلوں تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کوئی باقاعدہ عہدہ نہیں سنبھالے ہوئے، جسے وہ چھوڑ دیں اور انقلاب کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں نے ملک میں جاری بحران کی ذمہ داری ’بزدلوں اور غداروں‘ پر ڈالی اور کہا کہ وہ لیبیا کے عوام کو ’ذلیل‘ کرنا چاہتے ہیں اور ملک کو بدامنی کی جگہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

اُدھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے لیبیا میں مظاہرین کے خلاف فوجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے طرابلس حکام پر زور دیا کہ اپنے عوام کے جائز مطالبات تسلیم کریں۔ سلامتی کونسل کے اعلامیے میں لیبیا کے حالات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا، ’سلامتی کونسل کے ارکان تشدد اور شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔‘

سلامتی کونسل نے وہاں مظاہرین کی ہلاکتوں پر بھی دُکھ کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب پیرو نے لیبیا کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیما حکومت نے ایک اعلامیے میں کہا کہ عوام کے خلاف تشدد روکے جانے تک لیبیا سے ہر طرح کے سفارتی تعلقات معطل کیے جا رہے ہیں۔

Demonstranten vor der Lybischen Botschaft in Tunis

تیونس میں لیبیا کے سفارت خانے کے سامنے قذافی مخالف مظاہرہ

خبررساں اداروں کے مطابق لیبیا میں حالات تاحال کشیدہ ہیں جبکہ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اب تک وہاں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران تقریباﹰ تین سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تاہم طرابلس میں پارلیمنٹ کے صدر Mohamed Zwei نے دعویٰ کیا ہے کہ لیبیا کے بیشتر بڑے شہروں میں حالات پر قابو پا لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور فوج نے اپنی پوزیشنیں پھر سے حاصل کر لی ہیں۔ انہوں نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ مظاہروں کی تفتیش کے لیے ایک تفتیشی کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں اصلاحات پر بات چیت کے لیے پارلیمنٹ کے اجلاس منعقد نہیں کیے جا سکتے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس