1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقتدار نئی حکومت کو منتقل کر دیا جائے گا: صدر تھین سین

آٹھ نومبر کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والی سیاسی پارٹی کو اگلے برس اقتدار منتقل کرنے کا عندیہ میانمار کے صدر نے دیا ہے۔ اِس الیکشن میں آنگ سان سوچی کی پارٹی کو بھاری کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

default

الیکشن میں آنگ سان سوچی کی سیاسی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کو بھاری کامیابی ملی تھی

میانمار کے صدر تھین سین نے آج اتوار کے روز کہا ہے کہ عام انتخابات میں آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت کی کامیابی اُن کی حکومت کے اصلاحاتی عمل کا نتیجہ ہے اور منتقلیٴ اقتدار کا عمل بھی مکمل کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ینگون میں الیکشن میں حصہ لینے والی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کی میٹنگ میں کیا۔ وہ الیکشن کے بعد پہلی مرتبہ کسی پبلک میٹنگ میں شریک تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ نومبر کے الیکشن اُن کی حکومت کی سیاسی و اقتصادی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔

میانمار کے صدر جس میٹنگ میں شریک تھے، اُس میں ملک کی ستر سے زائد پارٹیوں کے لیڈران شریک تھے۔ اِس اجلاس میں اگلے برس اقتدار کی منتقلی سے قبل کی صورتِ حال پر فوکس کیا گیا۔ صدر تھین سین کے مطابق اگلے برس نئی پارلیمنٹ کی تشکیل کے بعد نئی حکومت سازی کا عمل شروع ہوتے ہی اقتدار منتقل کر دیا جائے گا۔ تھین سین نے یہ بھی کہا کہ جو سیاسی و اقتصادی تبدیلی کا عمل شروع کیا گیا ہے، وہ اگلی حکومت کے حوالے بھی کیا جائے گا تا کہ وہ بھی اِس عمل کو جاری رکھے۔

#

Myanmar Wahlen 2015

میانمار کے صدر تھین سین ووٹ ڈالتے ہوئے

رواں مہینے میں ہونے والے انتخابات میں موجودہ صدر تھین سین کی جماعت یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کو انتہائی بڑی شکست کا سامنا رہا تھا۔ دوسری جانب نوبل انعام یافتہ خاتون سیاستدان آنگ سان سوچی کی سیاسی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کو بھاری کامیابی ملی تھی۔ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کو اسی فیصد نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ تھین سین کی سیاسی جماعت کو فوج کی حمایت بھی حاصل ہے۔ میانمار کی نئی پارلیمنٹ کا اجلاس اگلے برس فروری میں ہو گا۔

نئی پارلیمنٹ میں موجودہ حکمران سیاسی جماعت یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی اپوزیشن میں بیٹھے گی۔ صدر اور فوج نے جیتنے والی سیاسی جماعت کی لیڈر آنگ سان سوچی کے ساتھ حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ خاتون اپوزیشن لیڈر کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوج کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دے کیونکہ ملکی سیاسی و اقتصادی معاملات میں فوج کا کردار خاصا اہم ہے۔ صدر تھین سین ملکی فوج کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں اور پانچ برس قبل وردی اتارنے کے بعد سے وہ سویلین حکومت کے سربراہ چلے آ رہے ہیں۔