1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

اقبال بانو :آواز جو خاموش ہو گئی

دنیا بھر میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لیے یہ خبر بڑے دکھ کا باعث ہو گی کہ غزل کی دنیا میں منفرد مقام رکھنے والی پاکستان کی ممتاز گلوکارہ اقبال بانو اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔

default

اقبال بانو نے گائیکی کا آغاز ریڈیو سے کیا

منگل کی شام لاہور کے علاقے میو گارڈن ٹاؤن کے احمد بلاک کے 186 نمبر والے کشادہ گھر کے صحن میں جب اقبال بانو کا جسد خاکی جنازے کے لئے رکھا گیا تو اس موقعے پر وہاں موجود لوگوں کو اقبال بانو کا گایا ہوا وہ کلام بہت یاد آیا جس میں کہا گیا تھا کہ محبت کرنے والے کم نہ ہو ں گے تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے‘‘۔

74 سالہ اقبال بیگم بلند فشار خون اور ذیا بیطس کی وجہ سے اتفاق ہسپتال میں زیر علاج تھیں جہاں منگل کی شام وہ اپنے چاہنے والوں کو داغ مفارقت دے گئیں۔

1935 میں دہلی میں پیدا ہونے والی اقبال بانو نے اپنے فنی سفر کا آغاز آل انڈیا ریڈیو کے دہلی اسٹیشن سے کیا۔ 1957 میں پہلا گیت گایا۔ فن گائیکی میں ان کی خدمات پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کاکردگی سے بھی نوازا گیا۔

اقبال بانو کے پس ماند گان میں ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ منفرد انداز میں غزلیں گانے والی اس فنکارہ نے ناصر کاظمی اور احمد فراز سمیت کئی شاعروں کی غزلیں گائیں لیکن ان کا گایا ہوا فیض احمد فیض یہ کلام ضیاء الحق دور اور وکلا کی حالیہ تحریک میں بہت دلچسپی سے سنا جاتا رہا :

’’ہم دیکھیں گے

جب ظلم و ستم کے کوہ گراں

روئی کی طرح اڑ جائیں گے

ہم محکوموں کے پائو ں تلے

یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی

اور اہل حکم کے سر اوپر

جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

ہم دیکھیں گے ‘‘

ان کے گائے ہوئے دیگر معروف گیتوں اور غزلوں میں داغ دل ہم کو یاد کو آنے لگے، رنجش ہی سہی اور الفت کی نئی منزل وغیرہ شامل ہیں۔ اقبال بانو کی فارسی غزلیں ایران اور افغانستان میں بھی دلچسپی سے سنی جاتی رہیں۔ پاکستان کے ممتاز گلوکار حامد خان کہتے ہیں کہ اقبال بانو کی موت سے غزل کی گائیکی کی دنیا میں پیدا ہونے والا خلا مدتوں پورا نہیں ہو سکے گا۔