1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’افواہوں کے خاتمے کے لیے خصوصی اعلانات‘، یونان

یونانی حکام نے کہا ہے کہ مقدونیہ کی سرحد سے متصل علاقوں میں لاؤڈ اسپیکرز نصب کیے جائیں گے تاکہ وہاں موجود ہزاروں مہاجرین میں پھیلنے والی افواہوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

Mazedonien Grenze zu Griechenland ist geschlossen

حقیقت میں مقدونیہ نے یونان کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کر رکھا ہے

خبر رساں ادارے اے پی نے یونانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ مقدونیہ کی سرحد سے متصل علاقوں میں موجود مہاجرین میں گزشتہ کئی دنوں سے ایسی غلط افواہیں پھیل چکی ہیں کہ بلقان ریاستوں نے اپنی سرحدی گزر گاہوں کو کھول دیا ہے اور اب یہ مہاجرین وسطی یورپی ممالک کی طرف سفر کر سکتے ہیں۔

حقیقت میں مقدونیہ نے یونان کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کر رکھا ہے تاکہ مہاجرین کی آمد کو روکنے میں مدد مل سکے۔ حکام کے مطابق اس علاقے میں موجود مہاجرین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان مہاجرین کا خیال ہے کہ بند سرحدیں کسی وقت بھی کھل سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں وسطی اور شمالی یورپی ممالک کی طرف سفر کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

یونان حکام کے مطابق گزشتہ دنوں کے دوران متعدد مرتبہ ایسی افواہیں گردش کرنے لگی تھیں کہ سرحدیں کھل سکتی ہیں۔ اسی لیے اب ان سرحدی علاقوں میں لاؤڈ اسپیکرز نصب کیے جا رہیں تاکہ وہاں موجود مہاجرین کو غلط معلومات اور افواہوں سے دور رکھا جا سکے۔

یونان میں مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے خصوصی ادارے کے ترجمان کرسِٹس نے اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر افواہوں کا پھیلایا جانا عام سی بات بن چکا ہے، ’’لوگ شدید دباؤ میں ہیں۔ وہ انتہائی تکلیف دہ حالت میں ہیں۔ انہیں غلط معلومات پہنچائی جا رہی ہیں اور اس پیچیدہ صورتحال میں افواہیں ایسی پھیلتی ہیں، جسے جنگل میں آگ۔‘‘

Griechenland Idomeni Grenze Mazedonien Flüchtlinge Menschen im Rollstuhl vor der Polizei

اس علاقے میں موجود مہاجرین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں

کرسِٹس کے مطابق مترجم افراد کا بندوبست کر لیا گیا ہے اور ان سرحدی علاقوں میں لاوڈ اسپیکرز نصب کیے جا رہے ہیں، ’’ مہاجرین کو پہنچائی جانے والی غلط معلومات کی تصحیح کے لیے اعلانات کیے جائیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ افواہوں کی وجہ سے حالات مزید خراب بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے ہم اس کا حل چاہتے ہیں۔

دوسری طرف ترکی اور یورپی یونین کے مابین ڈیل کے نتیجے میں یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی نوٹ کی جا رہی ہے۔ پبلک آرڈر منسٹر نکوس ٹوسکاس کے مطابق بیس مارچ کے بعد ترکی سے یونان آنے والے مہاجرین کی تعداد میں کمی سے معلوم ہوتا ہے کہ انقرہ حکومت مہاجرین کے اس بحران کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔