افغان کسان پوست کاشت کرنے کو کيوں ترجيح ديتے ہيں؟ | حالات حاضرہ | DW | 01.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان کسان پوست کاشت کرنے کو کيوں ترجيح ديتے ہيں؟

پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات ميں حاليہ کچھاؤ کے نتيجے ميں کابل حکومت کے پھلوں کی برآمدات بڑھانے سے متعلق منصوبے منفی طور پر متاثر ہو رہے ہيں۔

افغانستان کے جنوبی صوبہ قندھار کے ضلعے پنجوائی ميں انگور کا پھل اگانے والے ايک کسان عبدالصمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زمين پر پھل اگانے کے ليے کافی سرمايہ کاری کی تھی تاہم پاکستان کی جانب سے بار بار سرحد بند کر دينے کے فيصلے کے نتيجے انہيں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ صمد کے مطابق، ’’ہمارے پاس واپس پوست کاشت کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہيں رہتا۔ يہ ہمارے ليے پھلوں کے مقابلے ميں کہيں زيادہ منافع بخش ہے۔‘‘       

انار اور انگور ايک عرصے سے افغانستان کی زرعی شعبے کے اہم ستون مانے جاتے رہے ہيں ليکن فضائی راستوں کی کافی محدود دستيابی اور پڑوسی ملک پاکستان کی جانب سے زمينی راستوں کی مسلسل بندشوں کے سبب افغانستان سے پھلوں کی برآمدات متاثر ہو رہی ہيں۔ گزشتہ برس يعنی سن 2016 ميں پاک افغان سرحد پر تجارت کی غرض سے پھلوں سے لدے ٹرکوں کی لمبی لمبی قطاريں عام سی بات تھی۔ فائرنگ کے تبادلے اور متعدد ديگر واقعات کی بناء پر اسلام آباد اور کابل حکومتوں کے مابين کشيدگی کے نتيجے ميں دونوں پڑوسی ممالک کے درميان مرکزی گزر گاہ بند کر دی جاتی اور نتيجتاً سينکڑوں ٹن پھل اور ديگر اشياء ضائع ہو جاتے ہیں۔

سن 2015 ميں افغانستان سے تقريباً باون ہزار ٹن انار پاکستان، متحدہ عرب امارات اور بھارت برآمد کيے گئے۔ گزشتہ برس تاہم برآمدات کا حجم صرف پندرہ ہزار ٹن رہا۔ برآمدات ميں کمی سے صرف انار ہی نہيں بلکہ ديگر افغان اشياء بھی متاثر ہوئيں ہیں۔ قندھار ميں افغان چيمبر آف کامرس کے سربراہ نصراللہ ضمير کا کہنا ہے، ’’ہم قندھار سے چاليس ہزار ٹن انگور برآمد کرنے کے ليے تيار تھے تاہم پاکستان نے اکتوبر ميں سترہ ايام کے ليے سرحد بند کر دی اور ہمارے تاجر اپنی اشياء برآمد نہ سکے۔‘‘ افغان وزير زراعت اسد اللہ ضمير نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد حکومت سرحدی سکيورٹی کی خراب صورت حال کے تناظر میں در اصل افغان برآمدات کو نقصان پہنچانا اور اپنے مقامی کسانوں کو مسابقت سے بچانا چاہتی ہے۔

يہ امر اہم ہے کہ افغانستان ميں بڑے پيمانے پر پوست کی کاشت طالبان عسکريت پسندوں کی مالی معاونت کا سبب بنتی رہی ہے۔ کابل حکومت ايک عرصے سے کوششوں ميں ہے کہ کسانوں کو پھل اور زعفران کی کاشت کے متبادل راستے فراہم کيے جائيں البتہ يہ کوششيں کافی حد تک ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پوست کی کاشت آج بھی کئی افغان شہريوں کے ليے ذريعہ آمدن ہے۔ ايک برس قبل کے مقابلے ميں گزشتہ برس يعنی سن 2016 ميں پوست کی کاشت ميں دس فيصد اضافہ ريکارڈ کيا گيا۔

  

DW.COM