1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان پولیس ہیڈ کوارٹرز پر خود کش حملہ، گیارہ افراد ہلاک

جنوبی افغانستان کے شہر لشکر گاہ میں آج اتوار کو مقامی پولیس ہیڈ کوارٹرز پر کیے گئے ایک خود کش کار بم حملے میں کم ازکم دس پولیس اہلکاروں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔

default

قندھار سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ہلاک ہونے والا گیارہواں شہری ایک نابالغ بچہ تھا۔ لشکر گاہ جنوبی افغان صوبے ہلمند کا دارالحکومت ہے اور وہاں سلامتی کی ذمہ داریاں ابھی چند روز پہلے ہی غیر ملکی فوجی دستوں سے افغان سکیورٹی فورسز کو منتقل کی گئی تھیں۔

لشکر گاہ میں ہلمند کے صوبائی گورنر کے ترجمان داؤد احمدی نے خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ صوبائی دارالحکومت میں پولیس ہیڈ کوارٹرز پر کیے گئے اس حملے میں نو افراد زخمی بھی ہوئے۔ ترجمان کے مطابق ہلاک شدگان میں سے ایک کے سوا باقی تمام پولیس اہلکار تھے جبکہ نو زخمیوں میں سے بھی سات پولیس اہلکار ہیں اور باقی دو عام شہری۔

NO FLASH Afghanistan Helmand Selbstmordanschlag

مختلف خبر ایجنسیوں کے مطابق یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق آج صبح ساڑھے آٹھ بجے کیا گیا۔ اس میں لشکر گاہ کے افغان پولیس اہلکاروں کو ان کے ہیڈ کوارٹرز کی عمارت کے سامنے اس وقت ایک کار بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جب وہ بڑی تعداد میں معمول کے گشت کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔

ہلمند کے صوبائی گورنر کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ زخمیوں کو علاج کے لیے فوری طور پر مقامی ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ قبل ازیں لشکر گاہ کے ایک مقامی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے یف پی کو بتایا تھا کہ اس بم حملے کے فوری بعد وہاں چھ ہلاک شدگان کی لاشیں لائی گئی تھیں جبکہ علاج کے لیے وہاں لائے جانے والے زخمیوں کی تعداد تیرہ تھی۔

قندھار سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ہلمند کا شمار افغانستان کے انتہائی خطرناک صوبوں میں ہوتا ہے۔ طالبان باغیوں نے لشکر گاہ میں آج کے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

Flash-Galerie Afghanistan Helmand Selbstmordanschlag

افغانستان کے جنوب میں اتحادی فوجی دستوں اور افغان سکیورٹی فورسز کو طالبان کی طرف سے بھرپور مسلح مزاحمت اور بم حملوں کا سامنا ہے۔ افغانستان کے چند علاقوں میں سلامتی کی ذمہ داریاں غیر ملکی فوجیوں سے مقامی سکیورٹی فورسز کو منتقل کرنے کا عمل ابھی کچھ عرصے پہلے ہی شروع ہوا تھا۔ لیکن یہ عمل شروع ہونے کے بعد سے مختلف افغان علاقوں میں طالبان کی طرف سے بار بار جو خونریز حملے کیے جا رہے ہیں، ان کے پیش نظر ماہرین اس بارے میں شبہات کا اظہار بھی کرنے لگے ہیں کہ آیا افغان سکیورٹی فورسز ملک میں سلامتی کی مکمل ذمہ داریاں واقعی اپنے سر لینے کی اہلیت رکھتی ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس