1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان پولیس پر طالبان کی امداد کا الزام

ہلمند میں افغان اور امریکی افواج کے ایک مشترکہ فوجی آپریشن کے دوران ایک افغان پولیس اہل کار کو ہلاک کر دیا گیا جب کہ تیس کو زیر حراست لے لیا گیا ہے۔ ان اہل کاروں پر طالبان کی معاونت کا الزام تھا۔

امریکی اور افغان افواج کی جانب سے فوجی کارروائی جمعے کے روز کی گئی۔ ہلمند کو طالبان عسکریت پسندوں کا اہم گڑھ مانا جاتا ہے اور یہ جنوبی صوبہ کافی عرصے سے شورش کا شکار ہے۔ صوبے میں طالبان کی فتوحات کے باعث یہاں سے افغان افواج کو اپنے کئی ٹھکانوں کو خیرباد کہنا پڑا ہے۔ اسلامی عسکریت پسندوں کی اس بڑھتی ہوئی طاقت کے پیش نظر یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا کہ شاید افغان پولیس اہل کار بھی بالواسطہ یہ بلاواسطہ طالبان کی امداد کر کے انہیں تقویت پہنچا رہے ہیں۔

جمعے کے روز کیے گئے آپریشن کا ہدف ہلمند کا سنگین ضلع تھا۔ صوبے کے پولیس سربراہ عبدالرحمان سارجنگ نے کارروائی کی بابت خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’’افغان فوج نے متعدد پولیس اہل کاروں کو حراست میں لے کر فوجی اڈے منتقل کر دیا ہے۔ ان کے خلاف تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔‘‘

سارجنگ نے یہ بھی بتایا کہ سنگین ضلعے کے پولیس سربراہ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

سارجنگ نے فوجی کارروائی کے مقاصد کے بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا تاہم ہلمند میں موجود افغان فوج کے ایک سینئر اہل کار نے روئٹرز کو بتایا کہ افغان فوج اور امریکی عہدے داروں کو خدشہ ہے کہ پولیس طالبان کو اسلحہ فراہم کرتی رہی ہے، اور وہ طالبان شدت پسندوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کی تیاری بھی کیے بیٹھی تھی۔

اس افغان فوجی افسر کا کہنا تھا: ’’تفتیش کے دوران ہمیں چند ایسے شواہد ملے کہ پولیس طالبان کی معاونت کر رہی ہے، اور اس بات کا بھی امکان تھا کہ وہ سنگین کو طالبان کے حوالے کرنے کی بھی تیاری کیے بیٹھی ہے۔‘‘

''اس کے بعد ہم نے امریکیوں کے ساتھ فوجی آپریشن کرتے ہوئے متعدد اہل کاروں کو حراست میں لے لیا۔‘‘

روئٹرز کے مطابق یہ واضح نہیں کہ مذکورہ آپریشن میں امریکی شمولیت کس حد تک اور کس درجے کی تھی۔ کابل میں موجود امریکی فوجی قیادت نے اس بارے میں ہنوز کوئی رائے نہیں دی ہے۔

بہرحال نیٹو نے صوبہ ہلمند میں تعینات افواج کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی فضائیہ بھی طالبان کے ٹھکانوں پر بم باری کر رہی ہے۔ افغان افواج نے متعدد بار اس صوبے میں فوجی عہدے داروں کی تعیناتی اور تبادلے بھی کیے ہیں۔