1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان پوليس کی تنخواہوں کی ادائيگی کا نظام بہتر

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغان پوليس کی تنخواہوں کی ادائيگی کا نظام بہتر اور جديد بنا ديا گيا ہے اوراس طرح اقوام متحدہ کی جانب سے نگرانی کے سلسلے ميں امريکی اعتراضات کو دور کيا جا سکے گا۔

قيديوں کے فرار کے بعد قندھار جيل کے باہر افغان پوليس

قيديوں کے فرار کے بعد قندھار جيل کے باہر افغان پوليس

جنگ کی لپيٹ ميں آيا ہوا افغانستان اپنی پوليس کی تنخواہيں اور اخراجات خود برداشت نہيں کرسکتا۔ اس ليے اس ملک ميں سکيورٹی کی صورتحال کوبہتربنانے ليے بہت سےممالک رقوم دے رہے ہيں۔ ان ممالک نے افغان پوليس کو تنخواہوں کی ادائيگی کے ليے قائم شدہ ايک ٹرسٹ ميں ڈيڑھ ارب ڈالر جمع کيے ہيں۔ اس فنڈ کی نگرانی کا کام اقوام متحدہ کے ترقياتی پروگرام کے سپرد ہے۔ ٹرسٹ ميں جمع کی جانے والی تقريباً ايک تہائی رقم امريکہ نے ادا کی ہے۔ فنڈ ميں سے اب تک 1.26ارب ڈالر کی رقم افغان حکومت کو ادا کی جا چکی ہے۔

افغان پوليس کی ٹريننگ

افغان پوليس کی ٹريننگ

ليکن امريکی آڈٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ افغان حکام کا ريکارڈ رکھنے کا نظام خراب ہے جس کی وجہ سے افغان وزارت داخلہ کو يہ علم نہيں کہ پوليس کی صحيح نفری کتنی ہے، جس سے غير ممالک سے ملنے والی رقوم کے غلط استعمال کا خدشہ ہے۔ افغانستان کی تعمير نو کے نگران خصوصی انسپکٹر جنرل نے حسابات کی جانچ پڑتال کے دوران اقوام متحدہ کی جانب سے نگرانی کو بھی ’ايک مسئلہ‘ قرار ديا ہے۔

امريکی صدر باراک اوباما کی سکيورٹی کو افغان فوج اور پوليس کو منتقل کرنے کی پاليسی طالبان باغيوں کے خلاف اُن کی جنگی حکمت عملی کا ايک اہم حصہ ہے۔ ليکن حاليہ واقعات، خصوصاً قندھار کی سينٹرل جيل سے قيديوں کے فرار سے افغان سکيورٹی فرسزکے قابل اعتماد ہونے سے متعلق شبہات ميں اور اضافہ ہوا ہے۔

کابل ميں طالبان کے ايک حملے کے بعد

کابل ميں طالبان کے ايک حملے کے بعد

افغانستان کی تعمير نو کے حسابات کے آڈٹ سے متعلق امريکی رپورٹ ميں کہاگيا ہے کہ جن تقريباً 21 فيصد پوليس والوں کوابھی تک نقد تنخواہيں دی جارہی ہيں، اُن کے بارے ميں نہ تو افغان وزارت داخلہ اور نہ ہی اقوام متحدہ کے پاس کوئی ايسا مصدقہ ريکارڈ موجود ہے جس کی مدد سے يہ ثابت ہو سکے کہ يہ رقوم واقعی پوليس کے عملے کو ادا کی گئی ہيں۔ ليکن اقوام متحدہ کے ترقياتی پروگرام نے کہا ہے کہ جن پوليس والوں کو نقد تنخواہيں دی جا رہی ہيں، اُن کے سلسلے ميں افغان وزارت داخلہ نے’’رقوم کے غلط استعمال کا خطرہ کم کرنے کے ليے نماياں اقدامات کئے ہيں‘‘ اقوام متحدہ کی ايک رپورٹ ميں کہا گيا ہے: ’’نقد تنخواہيں کبھی بھی پوليس يونٹ کمانڈر نہيں بلکہ ايک تين رکنی کميٹی کی طرف سے ادا کی جاتی ہيں، جن کا چناؤ مختلف شعبوں سے کيا جاتا ہے۔ يونٹ کا سربراہ، تنخواہوں کی وصولی کی تصديق کرنے والے پوليس اہلکاروں کے دستخطوں کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ يہ ايک بڑی ترقی ہے کہ اب 80 فيصد پوليس عملے کو اليکٹرانک طريقہء کار سے تنخواہيں ادا کی جارہی ہيں۔ پہلے ان کا تناسب صرف ايک فيصد تھا۔‘‘

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM