1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان پاکستان سے بدگمان کیوں؟

بہت سے افغان باشندے طالبان کو پاکستان کے ساتھ منسلک کرتے ہیں اور افغانستان میں طویل شورش کے لیے اسلام آباد کو ہی قصوروار قرار دیتے ہیں۔ افغانوں کی پاکستان سے بداعتمادی، ڈی ڈبلیو نے اس صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔

پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کی موت پر بہت سے افغان باشندوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ دارالحکومت کابل اور کئی دیگر بڑے شہروں میں متعدد افغان باشندوں نے حمید گل کی موت کی خبر پر خوشی مناتے ہوئے سڑکوں پر رقص بھی کیا۔ یہ افغان حمید گل کو ’افغان باشندوں کو ذبح کرنے والا‘ بھی قرار دیتے تھے۔

افغان جنگ کے دوران 80 کی دہائی میں پاکستانی خفیہ ایجنسی کے اُس وقت کے سربراہ حمید گل کا کردار کوئی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ حمید گل کو پاکستان میں ’جنگی ہیرو‘ قرار دیا جاتا تھا۔ انہوں نے امریکا اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنایا کہ سابق سوویت یونین افغان جنگ میں کامیابی حاصل نہ کر پائے۔ تاہم افغان شہریوں کی حمید گل سے نفرت کی وجہ وار لارڈ گلبدین حکمت یار کی حمایت بنی۔ اُس وقت گلبدین حکمت یار روس اور بھارت نواز سابق افغان صدور نجیب اللہ (1987-92) اور برہان الدین ربانی (1992-96) کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے۔

لندن میں مقیم پاکستانی محقق اور صحافی فاروق سلہریا نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ’’افغانستان سے سوویت فوج کے انخلاء کے بعد حمید گل اور آئی ایس آئی نے افغانستان میں کسی حکومت کو کامیاب نہ ہونے دیا۔‘‘ وہ اس دور کو افغانستان کا بدترین دور بھی قرار دیتے ہیں۔ سلہریا کے مطابق افغانستان میں اس صورتحال کے بنیادی منصوبہ ساز حمید گل ہی تھے۔

حمید گل 1992ء میں فوج سے ریٹائر ہوئے لیکن انہوں نے افغانستان میں اسلام پسند گروہوں کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا۔ گل نے اپنے سابقہ ادارے میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھا، جس نے 1994ء میں مبینہ طور پر طالبان کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ رواں برس پندرہ اگست کو انتقال کرنے والے حمید گل آخری سانسوں تک طالبان، القاعدہ اور دیگر جہادی گروپوں کے بڑے حمایتی رہے۔

افغان صوبے پکتیکا کے رہائشی ہلمن کاتازئی بھی ان افغان باشندوں میں سے ہیں، جنہوں نے حمید گل کی موت پر جشن منایا۔ وہ کہتے ہیں، ’’جب حمید گل کی موت واقع ہوئی تو لوگ بہت خوش تھے۔ انہوں نے مجھے بھی جشن میں شرکت کی دعوت دی، جو میں نے قبول کر لی۔‘‘ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کاتازئی نے مزید کہا، ’’جب پاکستان کے سابق آمر ضیاء الحق کی موت واقع ہوئی تھی، تو افغان عوام نے سوگ منایا تھا۔ تب ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ضیاء الحق کون تھے اور ان کا ملک ہمارے ملک کے خلاف کیا کر رہا تھا۔ اب ہمیں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی نیتوں کا علم ہو چکا ہے۔ ہم ہر اس شخص کی موت پر خوش ہوں گے، جس کے بارے میں ہم خیال کرتے ہیں کہ وہ ہماری مشکلات کا ذمہ دار ہے۔‘‘‘‘

Pakistan Hamid Gul Ehemaliger Chef Militärgeheimdienst SW

افغان حمید گل کو ’افغان باشندوں کو ذبح کرنے والا‘ بھی قرار دیتے تھے

بداعتمادی کی تاریخ

بلخ یونیورسٹی کے لیکچرر احمد ضیا فروزپور نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’’تاریخ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسلام آباد حکومت افغانستان میں ایک کمزور حکومت چاہتی ہے تاکہ وہ کسی بین الاقوامی بحران کے نتیجے میں بطور ہمسایہ ریاست ثالثی کا کردار ادا کر سکے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومت صرف اسی وقت خوش تھی، جب طالبان نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ فروزپور نے البتہ واضح کیا کہ افغان عوام کا غصہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی پر ہے نہ کہ پاکستانی عوام پر۔ فیروز پور نے کہا، ’’سن 2001ء میں پاکستان نے بین الاقوامی دباؤ میں آ کر افغان طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی لیکن ساتھ ہی پاکستان نے ڈبل گیم بھی شروع کر دی تھی۔‘‘

افغان صحافی اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن صدف غیاثی کے بقول افغان باشندوں کی رائے سازی میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے بھی بڑا کردار ادا کیا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’سوشل میڈیا کے ذریعے افغان حکومت نے عوام کو کافی شواہد مہیا کیے کہ اسلام آباد کس طرح ان کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔‘‘

تاہم ممبر پارلیمان شکریہ بارکزئی کے مطابق افغانستان کی نئی حکومت کے دوران صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم پاکستان سے جو مطالبہ کر رہے ہیں، اس کا پورا کرنا ناممکن نہیں ہے۔‘‘ اس خاتون رکن پارلیمان نے کہا کہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ایگریمنٹ کو حتمی شکل دے اور افغانستان کی سلامتی کے معاملات میں دخل اندازی بند کر دے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان اس حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا تو ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا کہ وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے مشاورت کریں۔

امن عمل

اسلام آباد حکومت افغان حکومت اور عوام کی طرف سے عائد کیے جانے والے تمام تر الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں پائیدار قیام امن کی خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے امن عمل کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ تاہم افغانستان میں حالیہ حملوں کے بعد صدر اشرف غنی نے انتہائی سخت بیان جاری کیے، جن میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امن کی امید کر رہے تھے جبکہ انہیں پاکستان کی طرف سے جنگ کے اشارے مل رہے ہیں۔

دوسری طرف مبصرین کا کہنا ہے کہ کابل حکومت کے غصے سے پاکستانی پالیسیوں میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں افغانستان امور کے محقق میٹ والڈمین نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان طالبان کے لیے اپنی حمایت اس وقت تک ختم نہیں کرے گا جب تک علاقائی حرکیات تبدیل نہیں ہوں گی، ’’شواہد بتاتے ہیں کہ ابھی تک پاکستان نے اپنی افغان پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی۔

اسی طرح جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے وابستہ ماہر سیاسیات زیگفریڈ او وولف نے بھی ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں، جنہیں یقین ہے کہ افغانستان میں بھارت کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے طالبان ایک اہم ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘

Afghanistan Anschlag am Flughafen Kabul

افغانستان میں حالیہ حملوں کے بعد صدر اشرف غنی نے پاکستان کے بارے مین انتہائی سخت بیانات جاری کیے

پاکستان، ’قربانی کا بکرا‘

اسلام آباد حکومت کے مطابق افغان حکام کے لیے یہ آسان ہے کہ وہ اپنی ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر تھوپ دیں۔ کئی تجزیہ کار بھی کہتے ہیں کہ افغان حکومت اچھے طرز حکمرانی میں ناکام ہو گئی ہے اور یہ بیانیہ کہ افغان عوام کی مشکلات کا ذمہ دار پاکستان ہے، صرف ایک سیاسی چال ہے۔

تاہم شکریہ بارکزئی کے مطابق پاکستان کے اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے، ’’میرا خیال نہیں کہ ہم پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں۔ افغانستان ہی واحد ملک نہیں جو پاکستان پر دخل اندازی کے الزامات عائد کرتا ہے۔ بھارت بنگلہ دیش اور چین کو بھی اسلام آباد سے یہی مسائل لاحق ہیں۔‘‘