1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

افغان ٹی ٹوئنٹی لیگ میں پاکستانی کرکٹرز کی شرکت پر پابندی

پاکستان اور افغانستان کے مابین تازہ کشیدگی کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستانی کھلاڑیوں کی افغان ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگ میں شرکت پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ ڈومیسٹک کرکٹ لیگ اٹھارہ جولائی کو کابل میں شروع ہو گی۔

Cricket Afghanistan vs Pakistan 27.02.2014 (Reuters)

اس پابندی کی زد میں آنے والے پاکستانی کرکٹرز میں کامران اکمل، عمر اکمل (تصویر) اور بابر اعظم بھی شامل ہیں

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعہ دو جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ملکی کرکٹ بورڈ پی سی بی نے ان تمام پاکستانی کھلاڑیوں کو افغانستان میں کھیلنے سے روک دیا ہے، جنہوں نے غیر ملکی کھلاڑیوں کے طور پر Shpageeza کرکٹ لیگ میں شامل مختلف ٹیموں کی طرف سے کھیلنے کے لیے باقاعدہ معاہدے کر رکھے تھے۔

کابل اور لاہور، پاک افغان کرکٹ ڈپلومیسی کے لیے سرگرم

افغانستان اور آئرلینڈ کو ٹیسٹ کرکٹ اسٹیٹس دینے پر اتفاق

پاکستانی کرکٹرز افغانستان کی مقامی کرکٹ لیگ میں جلوه گر

اس پابندی سے کئی نامور پاکستانی کرکٹرز متاثر ہوئے ہیں، جن میں کامران اکمل، عمر اکمل اور بابر اعظم جیسے کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں پی سی بی کے دو جون جمعے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ جن پاکستانی کھلاڑیوں اورکوچز نے اس افغان کرکٹ لیگ میں شرکت کرنا تھی، اب ان میں سے کسی کو بھی بورڈ کی طرف سے لازمی طور پر درکار اجازت نامہ یا این او سی جاری نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس بیان کے مطابق، ’’اب اس افغان ٹی ٹوئنٹی لیگ میں کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی یا اہلکار شرکت نہیں کر سکے گا۔‘‘

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان اور افغانستان دو ایسے ہمسایہ ممالک ہیں، جن کے مابین افغان کرکٹ بورڈ یا اے سی بی اور پی سی بی کی سطح پر تعلقات اسی ہفتے بدھ کے روز کابل میں ہونے والے ایک بہت ہلاکت خیز بم دھماکے کے بعد سے کافی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ کابل میں اس دہشت گردانہ حملے میں کم از کم 90 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے قبل اسی بم حملے کے بعد افغان کرکٹ بورڈ نے ملکی ٹیم کے پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف کھیلے جانے والے دو ٹی ٹوئنٹی میچ بھی منسوخ کر دیے تھے۔ ان میچوں کے انعقاد کا فیصلہ ابھی حال ہی میں کیا گیا تھا اور یہ جولائی اور اگست کے مہینوں میں کھیلے جانا تھے۔ منسوخی کے فیصلے تک ان میچوں کے لیے کوئی حتمی تاریخیں مقرر نہیں کی گئی تھیں۔

افغانستان میں اگلے ماہ کے وسط میں شروع ہونے والی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگ ان مقابلوں کا پانچواں ایڈیشن ہو گی اور اس ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر افغانستان کی چھ علاقائی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔

DW.COM