1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان وزارت دفاع کے چودہ سو بدعنوان اہلکار برطرف

افغان وزارت دفاع کے چودہ سو بدعنوان اہلکار ملازمتوں سے برطرف کر دیے گئے ہیں جبکہ دو ہزار سے زائد ملازمین کے خلاف تفتیش ابھی جاری ہے۔ بدعنوانی کے خلاف مہم کے دوران یہ برطرفیاں گزشتہ چھ ماہ کے دوران عمل میں آئیں۔

ملکی دارالحکومت کابل سے جمعرات تیس مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق افغان وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے آج بتایا کہ گزشتہ برس ستمبر کے آخر سے لے کر ماہ رواں کے دوران اب تک اس محکمے کے 1394 اہلکاروں کو بدعنوان ہونے کی وجہ سے ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ اسی وزارت کے 2042 اہلکاروں کے خلاف کرپشن کے الزام میں باقاعدہ عدالتی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ افغانستان کے نائب وزیر دفاع جنرل ہلال الدین ہلال نے، جو حال ہی میں قائم کردہ ملکی ٹرانسپیرنسی کمیشن کے سربراہ بھی ہیں، جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ جن قریب 1400 دفاعی اہلکاروں کو مستقل طور پر ان کی ملازمتوں سے برخاست کر دیا گیا، ان میں چند فوجی جنرل بھی شامل ہیں۔

یہ بات تاہم ابھی تک واضح نہیں کہ جن اہلکاروں کے خلاف چھان بین جاری ہے، ان میں سے کتنوں کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے اکثر کو کرپشن کے باعث برطرف کیا گیا جبکہ کئی اہلکار اس لیے اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے کہ وہ یا تو اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت کے مرتکب ہوئے تھے یا پھر وہ بھگوڑے ہو گئے تھے۔

کرپشن میں اضافہ، سماجی عدم مساوات کا سبب

افغانستان، دنیا کا تیسرا بدعنوان ترین ملک: ڈی ڈبلیو کا تبصرہ

یورپی یونین افغانستان سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کمربسته

جنرل ہلال الدین ہلال کے مطابق سرکاری دفاعی ملازمین کی ان برطرفیوں میں ایسے بہت سے کیسز بھی شامل تھے کہ متعلقہ اہلکاروں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا تھا، وہ اپنے ہتھیار بیچ دینے کے مرتکب ہوئے تھے، انہوں نے اشیائے خورد و نوش کی فراہمی میں وسیع پیمانے پر خرد برد کی تھی یا پھر انہوں نے عام فوجیوں کی تنخواہوں میں غبن کیے تھے۔

نائب وزیر دفاع جنرل ہلال کے بقول جن اہلکاروں کو کرپشن کا مرتکب پایا گیا، ان میں سے کئی افراد بہت اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے یا رہے تھے۔ انہی میں سے ایک جنرل معین فقیر بھی تھے، جو جنوبی صوبے ہلمند میں افغان فوج کے ایک سابق کمانڈر ہیں اور جنہیں گزشتہ پیر کے روز گرفتار کیا گیا۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ افغانستان میں دفاعی شعبے میں کرپشن کے خلاف مہم کو اگرچہ کافی مزاحمت کا سامنا بھی ہے تاہم یہ مہم ابھی تک نہ صرف جاری ہے بلکہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ افغان ملٹری فورس میں تقریباﹰ ہر سطح پر پائی جانے والی بدعنوانی کو ختم یا پھر واضح طور پر کم کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اس کرپشن کی بڑی وجوہات یہ ہیں کہ افغان دستوں کی قیادت میں بھی کافی خامیاں پائی جاتی ہیں، ملکی دستوں کی جائز ضروریات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور بہت سی انتہائی اعلیٰ شخصیات بھی خود اپنے کرپٹ ہونے کی وجہ سے اس رجحان کے خلاف کوئی نتیجہ خیز اقدمات نہیں کرتیں۔

DW.COM