1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افغان مہاجر کی خود سوزی کی کوشش، حالت تشویشناک

جرمنی میں سیاسی پناہ کے متلاشی ایک افغان باشندے نے پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق جلے ہوئے اس افغان مہاجر کی حالت انتہائی نازک ہے۔

جرمن ریاست باویریا میں سیاسی پناہ کے متلاشی ایک ٹین ایجر افغان شہری نے خودسوزی کی کوشش کی ہے۔خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اِس افغان باشندے نے ایک سپر مارکیٹ کے گودام میں پہلے اپنے اوپر پٹرول ڈالا اور پھر خود کو آگ لگا لی۔

قریب کھڑے ہوئے لوگوں نے اپنی کوششوں سے اس افغان شہری کو لگی آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا۔ آگ بظاہر جلد ہی بُجھ تو گئی لیکن اس آگ کی وجہ سے افغان نوجوان کے جسم کے مختلف حصے بری طرح جل گئے۔

جُھلسے ہوئے افغان شہری کو فوری طور پر ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ خود سوزی کی کوشش کرنے والے اس افغان کی عمر انیس برس ہے۔ طبی اور پولیس نے اس نوجوان کی حالت انتہائی نازک بتائی ہے۔

 پولیس نے رپورٹرز کو بتایا ہےکہ خود سوزی کی کوشش کرنے والے اس افغان نے کن حالات میں ایسا کیا، اس بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پولیس نے اپنی تفتیش کے لیے شواہد جمع کرنے شروع کر دیے ہیں۔

پولیس نے یہ بھی بتایا ہےکہ سیاسی پناہ کے متلاشی اس افغان کے کپڑوں سے ایک چاقو بھی برآمد کیا گیا ہے لیکن اُس نے اِس کا کسی مقام پر کوئی استعمال نہیں کیا ہے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ خود کو آگ لگانے سے قبل افغان مہاجر نے ایک قریبی پٹرول اسٹیشن سے پٹرول بھی خریدا تھا۔

Abschiebung abgelehnter Asylbewerber nach Afghanistan (Reuters/R. Orlowski)

جرمنی سے افغان مہاجرین کا پہلا گروپ واپسی کے لیے جہاز پر سوار ہوتا ہوا

 افغان مہاجر کی خود سوزی کی کوشش کا واقعہ دو جنوری بروز پیر جرمن صوبے باویریا کے ایک قصبے گائمرشائم میں رونما ہوا۔گائمر شائم نامی یہ قصبہ میونخ اور نیورمبرگ کے درمیان واقع ہے۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران جرمنی سے افغانستان واپس بھیجے جانے والی خبروں سے افغان مہاجرین میں خاصی مایوسی پائی جاتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ افغانستان میں جاری شورش اور جبری واپسی ایسے افغان باشندوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

 دوسری جانب جرمن حکام نے جن افغان باشندوں کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں، اُن کی فوری واپسی کے عمل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔گزشتہ برس دسمبر میں ایسے مہاجرین کا ایک چارٹرڈ ہوائی جہاز کابل روانہ کیا جا چکا ہے۔ جرمن حکام کے مطابق کئی ہزار افغان باشندوں کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔