1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افغان مہاجر کی جانب سے زنا بالجبر اور قتل کا مبینہ ارتکاب، میرکل دباؤ میں

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ایک یونی ورسٹی کی طالبہ کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کے واقعےکی مذمت کی ہے۔ میرکل کے مخالفین اس عمل کو ان کی فراخ دلانہ مہاجر پالیسی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے جرمن پولیس نے ایک سترہ سالہ افغان مہاجر کو اس الزام میں گرفتار کیا تھا کہ اس نے جرمنی کے جنوب مغربی شہر فرائبرگ میں میڈیکل کی ایک انیس سالہ  طالبہ کو زنا بالجبر کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔ اس لڑکی کی لاش پولیس کو ایک دریا سے ملی تھی۔ اس واقعے پر جرمن عوام کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے، جس کی ایک وجہ افغان لڑکے کا مہاجر ہونا بھی ہے۔ یہ نوجوان گزشتہ برس افغانستان سے ہجرت کر کے جرمنی آیا تھا۔

جرمنی کے قدامت پسند حلقوں، بالخصوص ان سیاست دانوں نے جو ملک میں مہاجرین کی آمد کے خلاف ہیں، نے اس واقعے کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل پر تنقید کا حوالہ بنایا ہے۔ واضح رہے کہ میرکل دیگر یورپی رہنماؤں کی نسبت مہاجرین کے بارے میں فراخ دلانہ رویہ رکھتی ہیں۔ ان کی حکومت نے شام، عراق، لیبیا اور افغانستان جیسے جنگ زدہ مالک سے یورپ آنے والے لاکھوں افراد کر جرمنی میں پناہ دی ہے۔

پیر کے روز میرکل نے سرکاری نشریاتی ادارے اے آر ڈی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’اگر یہ ثابت ہو گیا کہ افغان مہاجر مجرم تھا تو اس کی اسی طرح مذمت کی جانا چاہیے جیسے کہ کسی دوسرے قتل کے واقعے کی۔‘‘

میرکل کا مزید کہنا تھا، ’’لیکن اس واقعے کو بنیاد بنا کر ایک پورے گروپ کی مذمت کرنا درست نہیں ہوگا۔ یہ ایک فرد کا عمل ہے۔‘‘

پولیس کا کہنا کہ افغان مہاجر، جسے جمعے کے روز گرفتار کیا گیا، کے ڈی این اے ٹیسٹ سے اس کے ریپ کے واقعے میں ملوث ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔ ایک ویڈیو فوٹیج بھی اس کے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔ افغان لڑکے نے اب تک اپنا بیان قلم بند نہیں کروایا ہے۔

قوم پرست جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی کے رہنما یوئرگ میوتھین کا اس بارے میں کہنا ہے کہ واقعے کے ذمے دار جرمن چانسلر میرکل اور نائب چانسلر زیگمار گابریئل بھی ہیں۔ ’’ان کو اس واقعے اور ایسے کئی واقعات کی ذمے داری قبول کرنا چاہیے جو کہ جرمنی میں مہاجرین کے بلا روک ٹوک داخلے کے نتیجے میں رونما ہو رہے ہیں۔‘‘

جرمن حکومت کے کئی اعلیٰ عہدے داروں نے طالبہ کے ساتھ زیادتی اور قتل کی مذمت کی ہے، تاہم جرمنی میں دائیں بازو کی جماعتوں کے ووٹ بینک میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورت حال اگلے برس چانسلر کے عہدے کے انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔