1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افغان مہاجر پاکستانی حکام کی بدسلوکی رپورٹ کریں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے پاکستان میں مقیم قریب 1.3 ملین رجسٹرڈ افغان مہاجرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کی طرف سے بدسلوکی اور اپنے خلاف زیادتیاں رپورٹ کریں۔ اس مقصد کے تحت ایک باقاعدہ پروگرام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

Peschawar Pakistan Demonstration von Flüchtlingen aus Afghanistan (DW/F. Khan)

افغان مہاجرین کا پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کے خلاف مظاہرہ، فائل فوٹو

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے بدھ پچیس جنوری کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں نے افغان مہاجرین پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کے اہلکاورں کی ان مبینہ زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کریں، جن کا مقصد ہمسایہ ملک افغانستان سے آنے والے ان تارکین وطن کو واپس اپنے ملک جانے پر مجبور کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے امدادی ادارے یونیسیف (UNICEF) اور عالمی ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے اہلکاروں نے بدھ کے روز کہا کہ اس سلسلے میں شروع کیے گئے ایک پروگرام کے تحت یونیسیف کی طرف سے سوشل مانیٹرنگ کے لیے استعمال ہونے والی ’’یو رپورٹ پاک آواز‘‘ کو بروئے کار لایا جائے گا۔

اس کے لیے پاکستان میں افغان مہاجرین کی نوجوان نسل کو خاص طور پر دعوت دی گئی ہے کہ وہ ملکی سکیورٹی اہلکاروں کی اپنے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور زیادتیوں کی رپورٹیں اسی ذریعے سے درج کرائیں۔

یونیسیف کے مطابق اس طرح افغان مہاجرین اقوام متحدہ کے اداروں کو ٹوئٹر، فیس بک یا پھر کسی موبائل فون سے بھیجے گئے ٹیکسٹ میسج کے ذریعے بھی اپنی شکایات سے آگاہ کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ یہی سوشل مانیٹرنگ پروگرام  ان مہاجرین اور ان کی نوجوان نسل کو اپنے مسائل سے متعلق بہتر ابلاغ کا موقع بھی فراہم کرے گا۔

Afghanische Flüchtlinge in Pakistan (DW/F. Khan)

’پاک آواز‘ کے ذریعے پاکستان میں افغان مہاجرین مقامی سکیورٹی حکام کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف اپنی شکایات درج کرا سکیں گے

انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی حکام قریب 1.3 ملین افغان مہاجرین کو مبینہ طور پر مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے مجبور کر رہے ہیں کہ وہ جلد از جلد واپس اپنے جنگ زدہ وطن لوٹ جائیں، حالانکہ ملکی حکومت نے قانوناﹰ ان مہاجرین کو رواں سال کے آخر تک پاکستان میں قیام کی اجازت دے رکھی ہے۔

نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے مختلف ہیومن رائٹس تنظیموں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستانی پولیس افغان مہاجرین کے گھروں پر اچانک چھاپوں کا سلسلہ تیز کر چکی ہے۔ ان مہاجرین کو باقاعدہ کوئی الزامات عائد کیے بغیر لمبے عرصے کے لیے جیلوں میں رکھا جاتا ہے اور ان کے آجرین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ ان مہاجرین کو اپنے ہاں کوئی کام کاج نہ کرنے دیں۔

پاکستانی سکیورٹی اداروں نے مہاجرین کے خلاف ان کارروائیوں کا آغاز 2014ء میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر کیے جانے والے اس خونریز دہشت گردانہ حملے کے بعد کیا تھا، جس میں قریب 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک شدگان میں بہت بڑی اکثریت اسکول کے بچوں کی تھی۔

DW.COM