1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افغان مہاجر اور فلم ساز حسن فاضلی سربیا میں بھی متحرک

فلم ساز حسن فاضلی نے گزشتہ برس افغانستان سے نقل مکانی کی تھی۔ طالبان شدت پسند ان کی ایک فلم پر ان کو قتل کی دھمکی دے چکے تھے۔ تاہم سربیا میں وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گزشتہ برس حسن فاضلی افغانستان چھوڑ کر سربیا منتقل ہو گئے تھے۔ یہاں بھی وہ اپنی فلموں کے ذریعے آواز بلند کر رہے ہیں۔ پیر کے روز برلن میں ہونے والے ایک فلم فیسٹیول میں ان کی فلم نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ تاہم وہ مہاجر اسٹیٹس رکھنے کے باعث سربیا چھوڑ کر جرمن فلمی میلے میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

'سینسرڈ ویمنز فلم فیسٹیول‘ کا آغاز پیر سے جرمن دارالحکومت برلن میں ہو رہا ہے۔ اس میں فاضلی کی فلم ’مسٹر فاضلیز وائف‘ (فاضلی کی بیگم) بھی دکھائی جا رہا ہے۔ یہ دس منٹ دورانیے کی ایک فلم ہے جس کی کہانی کا مرکز ایک ایسی اکیلی ماں ہے جو جسم فروشی کے بازار میں داخل ہونے سے بچنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ ایک افغان مرد فلم ساز کی جانب سے افغانستان کے پدر شاہی نظام پر ایک تنقید قرار دی جا رہی ہے۔

سینتیس سالہ فاضلی نے ایک دہائی قبل خواتین کے حقوق کے بارے میں فلمیں بنانا شروع کی تھیں۔ روئٹرز سے بات کرتے ہوئے فاضلی کا کہنا تھا، ’’میں چاہتا ہوں کہ خواتین کے حقوق کے موضوع کو عالمی سطح پر اجاگر کروں۔‘‘

فاضلی نے افغان دارالحکومت کابل میں ایک آرٹ کیفے اور ریستوان اس مقصد کے تحت کھولا تھا کہ وہاں خواتین اور مرد جمع ہو کر آرٹ اور سیاست پر تبادلہ خیال کر سکیں۔ تاہم سن 2014 میں پولیس اور مذہبی افراد نے مداخلت کر کے ان کے کیفے کو بند کروا دیا تھا۔

اس کے علاوہ طالبان عسکریت پسندوں نے فاضلی کی آخری فلم ’پیس ان افغانستان‘ (افغانستان میں امن) پر تنقید کرتے ہوئے فاضلی کو موت کی دھمکیاں دینا شروع کردی تھیں۔

فاضلی کہتے ہیں، ’’مجھے فون پر دھمکیاں ملنا شروع ہوئیں کہ میں اس طرح کی فلمیں بنانا چھوڑ دوں۔‘‘

فاضلی یہ بھی کہتے ہیں کہ افغانستان میں رہتے ہوئے انہیں امریکا اور برطانیہ میں اپنی فلمیں پیش کرنے کی اجازت نہیں ملتی تھی۔

فاضلی اب سربیا میں مہاجر کی حیثیت سے رہ رہے ہیں۔ حکام کی جانب سے سے سربیا کی سرحد بند کر دیے جانے کے باعث وہ مغربی یورپ کی طرف سفر کرنے سے قاصر ہیں۔

برلن میں ہونے والے فلم فیسٹیول کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین سے درخواست کی ہے کہ فاضلی کو برلن آنے کی اجازت دلوائی جائے۔ سربیا کے حکام کی جانب سے اس بارے میں اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

تاہم فاضلی نے اس امر کو تسلیم کر لیا ہے کہ وہ خواہش کے باوجود اپنی فلم کی نمائش میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔ اِس مناسبت سے وہ مزید کہتے ہیں کہ اصل مقصد یہ ہے کہ ان کا پیغام دنیا تک پہنچتا رہے۔