1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افغان مہاجرین کی جرمنی بدری شروع، پہلا گروپ کابل پہنچ گیا

جرمنی سے افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ جمعرات کے روز 38 افغان مہاجرین کو لے کر ایک جہاز کابل پہنچ گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اس سلسلے میں رواں برس ہی ایک معاہدہ طے پایا تھا۔

جرمنی ایسے افغان مہاجرین کو ان کے آبائی ممالک بھیج رہا ہے، جن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ جرمنی اور افغان حکومتوں کے درمیان رواں برس ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ایسے مہاجرین کو افغانستان واپس بھیجا جا سکتا ہے، جنہیں جرمنی میں سیاسی پناہ نہیں ملی۔

گزشتہ برس ہزاروں افغان مہاجرین مشرق وسطیٰ سے ہجرت کر کے یورپ پہنچنے والے تارکین وطن میں شامل تھے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق شامی شہریوں کے بعد افغان باشندے وہ دوسرا سب سے بڑا گروپ ہیں، جنہوں نے رواں برس جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں۔

کابل ایئرپورٹ حکام کے مطابق ان مہاجرین کو لے کر ایک خصوصی طیارہ جرمن شہر فرینکفرٹ سے کابل پہنچا۔ بتایا گیا ہےکہ واپس بھیجے گئے یہ تمام مہاجرین مرد ہیں۔

کابل پہنچنے والے ایک مہاجر علی امداد نے بتایا کہ وہ گزشتہ تین برس سے جرمنی میں رہ رہا تھا، ’’یہ علی الصبح کا وقت تھا۔ میں سو رہا تھا، جب چار پولیس اہلکار میرے گھر میں آئے اور مجھے گرفتار کر لیا۔‘‘

اپنے ہم راہ ایک چھوٹا سا بستہ لیے امداد نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا، ’’مجھے کپڑے، موبائل فون اور لیپ ٹاپ تک اٹھانے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ سب وہیں رہ گیا۔‘‘

Deutschland Hamburg Proteste gegen Abschiebung von afghanischen Flüchtlingen (DW/B. Rasin)

جرمنی بدری کے خلاف افغان باشندے مظاہرے بھی کر رہے ہیں

افغان باشندوں کی جرمنی بدری روں برس اکتوبر میں جرمنی اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے تحت کی جا رہی ہیں، جس کے تحت سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو جانے کے بعد جرمنی سے ایسے تارکین وطن کو افغانستان بھیجا جائے گا، اور افغان حکومت ایسے افراد کو قبول کر ے گی۔

اس ڈیل پر جرمنی میں بھی خاصی تنقید ہو رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہےکہ افغانستان کا زیادہ تر حصہ اب بھی افراتفری اور تشدد کی زد میں ہے اور اس ڈیل میں ان تارکین وطن کی زندگیوں کو لاحق خطرات کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔

جرمن وزارت داخلہ کے مطابق افغانستان کی وزارت برائے مہاجرین وطن واپس لوٹنے والے مہاجرین کو ان کے گھروں تک پہنچانے کا بندوبست کرے گی۔ وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ رواں برس اب تک قریب دس ہزار افغان باشندے یورپ سے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔

سیاسی پناہ حاصل نہ کر پانے والے افغان مہاجرین کے دوسرے گروپ کو لے کر اگلا طیارہ جنوری کے آغاز میں افغانستان پہنچے گا۔