1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افغان مہاجرین کی جبری واپسی سے ملک میں صورت حال مزید ابتر

اقوام متحدہ نے ہفتے کے روز افغان شہریوں کے لیے ساڑھے پانچ سو ملین ڈالر سرمایے کی اپیل جاری کی ہے، جس کا مقصد وہاں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ایک تہائی آبادی کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں امداد کے متقاضی افغان شہریوں کی تعداد میں تیرہ فیصد کا اضافہ ہو گیا ہے اور اب تقریباﹰ نو اعشاریہ تین ملین افراد امداد کے منتظر ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امداد کے متلاشی افراد کی تعداد میں اضافے کی بنیادی وجہ طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے ساتھ ساتھ ان ہزاروں مہاجرین کی وطن واپسی بھی ہے، جو پاکستان سے بے دخل کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین رابطہ کار مارک باؤڈن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان شہریوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کے انسداد کے لیے بین الاقوامی برادری انسانی بنیادوں پر امداد میں اضافہ کرے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قریب نصف ملین افراد داخلی طور پر مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جب کہ گزشتہ برس پاکستان اور ایران سے قریب چھ لاکھ افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجا گیا جب کہ یہ تمام افراد امداد کے متقاضی ہین۔

بیان میں کہا گیا ہے، ’’امدادی اداروں کو توقع ہے کہ مزید ایک ملین افغان باشندے رواں برس افغانستان واپس بھیج دیے جائیں گے اور انہیں بھی امداد کی ضرورت ہو گی۔‘‘

افغانستان میں پندرہ برس تک اربوں ڈالر کی بیرونی امداد کے باوجود وہاں غربت خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے اور انسانی ترقی کے انڈیکس میں یہ ملک انتہائی پستی کو چھو رہا ہے۔

افغانستان میں سن 1979ء میں سوویت دستوں کی پیشقدمی کے بعد شہریوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہوئی تھی، تاہم سن 2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے باوجود وہاں مجموعی طور پر صورت حال میں کوئی زیادہ بہتری دکھائی نہیں دے رہی۔