افغان مہاجرین کی ایک اور کھیپ پاکستان سے وطن پہنچ گئی | مہاجرین کا بحران | DW | 21.04.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افغان مہاجرین کی ایک اور کھیپ پاکستان سے وطن پہنچ گئی

مہاجرین کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ’نارویجین ریفیوجی کونسل‘ کے مطابق غیر رجسٹرڈ شدہ افغان مہاجرین کی ایک اور کھیپ پاکستان سے اپنے آبائی وطن افغانستان واپس پہنچ گئی ہے۔

Pakistan Flüchtlinge aus Afghanistan (Getty Images/AFP/A. Majeed)

پاکستان میں کئی عشروں تک دو ملین سے زائد افغان مہاجرین پناہ گزین رہے، جن میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان باشندے شامل تھے

نارویجین ریفیوجی کونسل کا کہنا ہے کہ اُس نے رواں ماہ کے ابتدائی دو ہفتوں میں سرحد پار کرنے والے اوسطاﹰ  ایک ہزار افغان مہاجرین کی یومیہ رجسٹریشن کی ہے۔ سال کے پہلے تین ماہ کے مقابلے میں یہ تعداد کافی زیادہ ہے۔ افغانستان میں نارویجین ریفیوجی کونسل کی سربراہ کیٹ اورورکے نے ایک بیان میں کہا،’’ ہمیں تحفظات ہیں کہ مناسب رجسٹریشن کاغذات کے بغیر یہ افغان مہاجرین غیر محفوظ ہیں۔ مہاجر خاندان ہمیں بتاتے ہیں کہ دستاویزات کی عدم موجودگی کے باعث اُنہیں ایسا لگتا تھا کہ انہیں جبراﹰ پاکستان چھوڑنے کو کہا جائے گا۔‘‘

 سن 2016 کے بعد سے ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان سے اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔ جنگ زدہ افغانستان میں ان مہاجرین کا مستقبل بہت حد تک غیر یقینی تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ملک پہلے ہی لڑائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شہریوں کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نارویجین ریفیوجی کونسل  یا ’این آر سی ‘ کے مطابق وہ افغان تارکین وطن جو پاکستان میں بطور مہاجر رجسٹرڈ نہیں تھے، افغانستان میں بھی مہاجرین کو دی جانے والی تھوڑی بہت امداد سے محروم رہیں گے۔

 این آر سی نے مزید بتایا کہ گزشتہ برس پاکستان سے اپنے وطن واپس جانے والوں  میں 380،000 رجسٹرڈ جب کہ 225،000 غیر رجسٹرڈ پناہ گزین شامل تھے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے رواں برس الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان افغان باشندوں کی وطن واپسی میں جبر اور ناروا سلوک اختیار کر رہا ہے۔ اس ضمن میں ہیومن رائٹس واچ نے اقوامِ متحدہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یہ کہنا بند کرے کہ افغان پناہ گزین پاکستان سے رضاکارانہ طور پر واپس جا رہے ہیں۔ اس ادارے نے افغان مہاجرین کے لیے مناسب آواز بلند نہ کیے جانے پر بھی تنقید کی تھی۔

پاکستان میں کئی عشروں تک دو ملین سے زائد افغان مہاجرین پناہ گزین رہے، جن میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان باشندے شامل تھے۔ افغانستان میں شورش کے باعث یہ لوگ اپنے وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے کئی علاقوں میں ابھی حالات سازگار نہیں ہوئے ہیں کہ ان مہاجرین کو ان کے وطن روانہ کیا جا سکے۔