1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان مہاجرین کو واپس وطن بھیجنے کی مشکل پاکستانی مہم

پختونخوا حکومت نے ایک مرتبہ پھر صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ایک ہفتے میں غیر قانونی طور پر مقیم تین سو افغانوں کو حراست میں لے کر جیل منتقل کیا گیا ہے۔

Afghanistan Flüchtlinge kehren aus Pakistan zurück

پاکستانی حکام غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو ایک راستے سے واپس افغانستان بھیجتے ہیں جبکہ وہ دوسرے راستے سے واپس آ جاتے ہیں

پشاور پولیس کے سینیئر افسر عباس مجید خان مروت کا کہا ہے کہ’وزیر اعلیٰ کی جانب سے غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغان مہاجرین کو نکالنے کی ہدایات کے بعد ماہ رواں کے دوران پچیس سے زیادہ آپریشن کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران دو ہزار گھروں کو چیک کیا گیا اور دو سو سے زیادہ غیر قانونی افغان مہاجرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان لوگوں میں بعض متعدد جرائم میں بھی ملوث تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہر میں ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی افغان رہائش پذیر ہیں، جو مختلف طرح کے بڑے جرائم میں ملوث ہیں۔ پولیس انہیں گرفتار کر کے جیل بھجواتی ہے اور بعد میں اُنہیں ڈی پورٹ کیا جاتا ہے۔

آرمی پبلک سکول کے واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف آپریشن کیے گئے۔ چودہ فارن ایکٹ کے تحت ایک سال کے دوران ساڑھے گیارہ ہزار افغان مہاجرین کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے پولیس ریکارڈ کے مطابق ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ کو پاک افغان سرحد طورخم کے راستے ڈی پورٹ کیا گیا تاہم چوبیس سو کلومیٹر طویل سرحد ہونے کی وجہ یہ افغان مہاجر دوسرے راستے سے واپس آ جاتے ہیں۔

اس دوران ملکی اور بعض بین الاقوامی اداروں اور افغانستان نے بھی افغان مہاجرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس کی وجہ سے اس آپریشن میں کمی کی گئی تاہم جب گزشتہ دنوں چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ ہوا اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس حملے میں افغانستان میں چھپے دہشت گردوں کے ملوث ہونے کی بات سامنے آئی تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے سکیورٹی اداروں کو ایک مرتبہ پھر ہدایات جاری کیں کہ صوبے میں موجود غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ’سکیورٹی ادارے مل کر کرفیو نافذ کر کے گھر گھر تلاشی لیں اور مشکوک افراد کو گرفتار کریں اور بالخصوص غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف بھر پور کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین پاکستان اور افغانستان مل کر افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے ٹائم فریم طے کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین صوبے پر بوجھ ہیں۔ صوبے کی معیشت پہلے سے دہشت گردی کی وجہ سے تباہ ہو چکی ہے جبکہ ان مہاجرین کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال خراب سے خراب تر ہو رہی ہے۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ’افغانستان کے ساتھ ملنے والی سرحد سیل ہونی چاہیے اور صرف پاسپورٹ پر آمد و رفت کی اجازت ہونی چاہیے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو افغان مہاجرین کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے پاکستانی شہریت دے دی جائے‘۔

افغان مہاجرین کے خلاف آپریشن نے قانونی طور یہاں رہائش پذیر افغان باشندوں کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کے پاس مطلوبہ دستاویزات پوری ہوتی ہیں لیکن پھر بھی پولیس انہیں بے جا تنگ کر رہی ہے۔ پاکستان میں اس وقت تیس لاکھ افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں، جن میں سے یو این ایچ سی آر کے مطابق ایک اعشاریہ سات ملین رجسٹرڈ ہیں۔

Afghanistan pakistanische Flüchtlinge

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین پاکستان اور افغانستان مل کر افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے ٹائم فریم طے کرے

غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دو نوں ممالک کے تعلقات پر اثرات کے حوالے سے جب ڈوئچے ویلے نے پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق ڈائریکٹر ضیاء الحق سے بات کی تو ان کا کہنا تھا:’’دونوں ممالک کو مل بیٹھ کر غیر قانونی افغان مہاجرین کے لیے لائحہ عمل طے کرنا چاہیے جبکہ پاکستان بار بار ان کی واپسی کی تاریخ میں توسیع کر رہا ہے۔ اس سال کے آخر میں ان کی واپسی کی تیاری کا کہا گیا لیکن عین وقت پر اس میں توسیع کر دی گئی۔ غیر قانونی مہاجرین کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسے میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم ڈھائی ارب ڈالر سے پانچ ارب ڈالر تک پہنچانے کا خواب پورا نہ ہو سکے گا۔ افغانستان میں امن ہو گا تو یہاں بھی امن آئے گا اور پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے کوشاں ہے۔‘‘

صوبائی حکومت کے سکیورٹی اداروں کی ایک رپورٹ کے مطابق دارالحکومت اور اس کے نواحی علاقوں میں نو لاکھ قانونی اور غیر قانونی افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں، جن میں سے پانچ لاکھ افراد چھوٹے بڑے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ پشاور میں۔