1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افغان مہاجرین کا دوسرا گروپ بھی جرمنی بدر کر دیا گیا

سیاسی پناہ کے ناکام درخواست گزار افغان تارکین وطن کا دوسرا گروپ بھی جرمنی سے کابل بھیج دیا گیا ہے۔ منگل کے روز ان تارکین وطن کو جبری طور پر بذریعہ ہوائی جہاز جرمنی بدر کیا گیا۔

پیر تئیس جنوری کے روز ان تارکین وطن کو جبری طور پر ان کی قیام گاہوں سے حراست میں لیا گیا اور ایک خصوصی طیارے کے ذریعے کابل پہنچا دیا گیا۔ کابل اور برلن حکومتوں کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ناکام درخواست گزار افغان باشندوں کو واپس افغانستان بھیجا جا سکتا ہے اور کابل حکومت کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ انہیں قبول کرے۔

عرش الوکزئی نامی 20 سالہ تارک وطن نے کابل پہنچنے پر بتایا، ’’صبح کے چار بجے تھے۔ میں سو رہا تھا، جب پولیس نے مجھے اٹھایا اور اپنے ساتھ لے گئی۔‘‘

عرش نے جرمنی میں پانچ برس گزارے۔ عرش نے افغانستان ایک بہتر مستقبل کے لیے چھوڑا تھا، کیوں کہ وہاں اسے ملازمت دستیاب نہیں تھی۔ ’’اب مجھے معلوم نہیں میں یہاں کیا کروں گا۔‘‘

Afghanistan Migranten aus Deutschland abgeschoben (Picture-Alliance/AP Photos/M. Hossaini)

افغان مہاجرین کا دوسرا گروپ جرمنی سے کابل پہنچا دیا گیا ہے

دسمبر کے وسط میں بھی 34 افغان مہاجرین کو جرمنی سے ملک بدر کر کے واپس افغانستان پہنچا دیا گیا تھا۔

افغان وزارت برائے مہاجرین کے مطابق گزشتہ برس قریب 10 ہزار افغان باشندے مختلف ممالک سے رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس آئے ہیں، جن میں سے تین ہزار جرمنی سے وطن واپس لوٹے ہیں۔

جرمن وزیر داخلہ تھوماس دے میزیئر نے اکتوبر میں کہا تھا کہ اس طرح کی ملک بدریاں افغانوں کو یہ واضح پیغام ہیں کہ جرمنی افغانستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی قلیل تعداد ہی قبول کرے گا۔

سن 2015ء میں جرمنی نے قریب نو لاکھ مہاجرین کو اپنے ہاں قبول کیا تھا، تاہم اس سے ایک طرف تو جرمنی میں عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے، جب کہ دوسری طرف داخلی سلامتی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس تمام صورت حال کا فائدہ انتہائی دائیں بازو کی سیاسی تحریکوں کو پہنچا ہے، جو اپنی مقبولیت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی نے اسی تناظر میں مختلف صوبائی انتخابات میں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ نشتیں حاصل کی ہیں اورخدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ جرمنی میں رواں برس ہونے والے قومی انتخابات میں بھی یہ جماعت نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔