1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغان معدنی دولت کی لُوٹ جاری

گہرے نیلے رنگ کا معدنی پتھر’سنگ لاجورد‘ تقریباﹰ صرف افغانستان ہی سے نکلتا ہے۔ اس معدنی خزانے کو دنیا کی غریب ترین اقوام میں سے ایک افغانستان کی قسمت بدلنے کے لیے ایک اہم امید قرار دیا جاتا ہے، مگر یہ دولت لوٹی جا رہی ہے۔

سنگ لاجورد کو انگریزی میں lapis lazuli کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے لیے اہم یہ معدنی خزانہ طالبان، اسمگلروں اور مقامی جنگی سرداروں کے لیے غیر قانونی دولت کے حصول کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ تاہم افغان حکومت ان کوششوں میں لگی ہے کہ اس شعبے میں بدعنوانی ختم کر کے ملکی وسائل پر کنٹرول حاصل کیا جائے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے مقامی حکام اور ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغان صوبے بدخشاں سے غیر قانونی کان کن ہزاروں ٹن سنگ لاجورد سالانہ نکال رہے ہیں اور اس طرح افغان حکومت ہر سال کئی ملین ڈالرز کے ریونیو سے محروم ہو جاتی ہے۔

اے پی کے مطابق ایک مقامی پولیس کمانڈر عبدالمالک ایک ایسی ہی کان کا کنٹرول رکھتے ہیں۔ وہ غیر قانونی طور پر کان کنی کرنے والوں سے پیسے وصول کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ اس کان کا انتظام چلانے کی اجازت کے لیے طالبان کو رقوم فراہم کرتے ہیں۔ یہ بات کان کنی کے حوالے سے صدر اشرف غنی کے مشیر کی طرف سے صدر کو بھیجی جانے والی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اسمگلرز مقامی حکام کو رشوت دے کر اس معدنی پتھر کو بڑی مقدار میں غیر قانونی طور پر ہمسایہ ملک پاکستان لے جا کر فروخت کرتے ہیں۔

افغانستان میں معدنیات کی تلاش، ان کے نکالنے اور پھر ان کی پراسیسنگ کی سہولیات اور مہارت نہ ہونے کے برابر ہے

افغانستان میں معدنیات کی تلاش، ان کے نکالنے اور پھر ان کی پراسیسنگ کی سہولیات اور مہارت نہ ہونے کے برابر ہے

’گلوبل وِٹنس‘ نامی انٹرنیشنل ایڈووکیسی گروپ میں افغانستان کے حوالے سے مہم کے سربراہ اسٹیفن کارٹر Stephen Carter کے مطابق اس ملک کا کان کنی کا شعبہ ’’مسلح گروپوں کو رقوم فراہم کر رہا ہے اور یہ صرف بدخشاں میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں عدم استحکام اور بدعنوانی کی ایک بڑی وجہ ہے۔‘‘

صوبے بدخشاں کے ایک رکن پارلیمان جاوید مجددی کے اندازوں کے مطابق سنگ لاجورد سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 70 فیصد طالبان کے پاس چلا جاتا ہے۔ اس طرح سے حاصل ہونے والے سرمائے سے افغانستان بھر میں عسکریت پسندی کے پھیلاؤ میں مدد مل رہی ہے۔

تین ٹریلین ڈالرز مالیت کے معدنی ذخائر

افغانستان میں تیل کے ذخائر کے علاوہ دھاتوں اور دیگر معدنی ذخائر کے بارے میں جو اندازے لگائے گئے ہیں، ان کی مالیت تین ٹریلین ڈالرز تک بنتی ہے۔ ان معدنیات میں کوئلے کے علاوہ تانبے، فولاد، زِنک، پارے، ریئر ارتھ میٹلز اور قیمتی پتھروں وغیرہ کے ذخائر شامل ہیں۔  تاہم ان دھاتوں اور معدنیات کی جو کان کنی اس وقت ہو رہی ہے، اس کا بہت ہی کم حصہ قانونی طور پر ہو رہا ہے۔

ملکی سطح پر ان معدنیات کی تلاش، ان کے نکالنے اور پھر ان کی پراسیسنگ کی سہولیات اور مہارت نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری طرف ملک میں سلامتی کی خراب صورتحال کے باعث بین الاقوامی کان کن کمپنیاں اور ماہرین بھی اس ملک میں جانے سے کتراتے ہیں۔