1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان مشن کے لئے پاکستان کا کردار اہم ہے، امریکہ

امریکی محکمہ دفاع نے پاکستان میں طالبان کے خلاف جاری فوجی آپریشن کو سراہا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ پاکستانی سرحد سے فوجیوں کی افغان سرحد پر منتقلی کے افغان مشن پر فوری اثرات ظاہر نہیں ہوں گے۔

default

پینٹا گون نے یہ بیان بدھ کو کانگریس کے سامنے پیش کردہ اپنی ایک رپورٹ میں دیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ایک لاکھ 40 ہزار فوجی قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

Pakistan Landschaft in Waziristan Luftaufnahme

پاکستانی فورسز قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف آپریشن کر رہی ہیں

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کا آپریشن سرحد پار بھی اثرات رکھتا ہے، اس سے دشمن طاقتوں پر دباؤمیں اضافہ ہوا ہے اور افغانستان کے مشرقی علاقوں میں بھی ان کے ٹھکانے کم ہوئے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع ایک طویل عرصے سے اسلام آباد حکام پر دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر طالبان اور القاعدہ رہنماؤں کے خلاف کارروائی کریں۔ اب اس کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں پاکستان کی جانب سے تعیناتیوں کے اس سلسلے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

پینٹا گون کے مطابق بھارت کی جانب سے اپنی مشرقی سرحد سے پاکستان نے ایک لاکھ فوجی افغانستان کی سرحد پر منتقل کئے ہیں۔ رپورٹ میں اس پیش رفت کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے مقامی انتہاپسندوں کے خطرے کو تسلیم کیا ہے۔

پینٹا گون نے یہ رپورٹ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات سے محض ایک روز قبل جاری کی ہے، جو دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ نو ماہ میں پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہوگا۔

پینٹا گون نے پاکستان میں طالبان رہنماؤں کی حالیہ گرفتاریوں کو بھی سراہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ملا عبدالغنی برادر جیسے رہنماؤں کی گرفتاریوں سے شدت پسند اپنے ٹھکانوں کے محفوظ ہونے پر تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں جبکہ ان کے مالی مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے امریکہ کے ایک اعلیٰ دفاعی عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان

Pentagon Logo

پینٹا گون نے یہ رپورٹ کانگریس کو پیش کی ہے

میں گرفتاریوں سے افغانستان میں طالبان کے ہمدرد حلقےبھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ اس عہدے دار کا کہنا ہے کہ اس صورت حال سے طالبان کے لئے قیادت کا بحران تاہم دکھائی نہیں دیتا۔

اُدھر پینٹا گون کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ کریک ڈاؤن اندرونی خطرات پر قابو پانے کے لئے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا، ’افغانستان میں شدت پسندی پر قابو پانے کی کوششوں پر اس حکمت عملی کے فوری اثرات ظاہر نہیں ہوں گے۔ اس سے آئندہ مہینوں میں ایسے مواقع ضرور ملیں گے، جن سے افغانستان کے آپریشن میں مدد مل سکے، لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان میں جاری آپریشن کیا رخ اختیار کرتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM