1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان مشن اہم ترین ہے، نیٹو سیکرٹری جنرل راسموسن

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے نئے سربراہ آندرس فوگ راسموسن نے سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنھبالنے کے بعد آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس میں انہوں نے بطور نیٹوسربراہ اپنی مدت کے دوران اپنی ترجیحات کا ذکر کیا۔

default

راسموسن نے مشرق وسطیٰ کے ممالک اور خاص طور پر مسلم دنیا کے ساتھ نیٹو کے تعلقات کو بھی بہت اہم قرار دیا

آج اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو کے نئے سیکریٹری جنرل نے افغانستان میں جاری آپریشن پر توجہ کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا اور کہا کہ دفاعی اتحاد نیٹو افغانستان میں قیام امن کے لئے خدمات سرانجام دیتا رہے گا۔

راسموسن کا کہنا ہے: " میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے طور پر میری موجودگی کے دوران ہی افغان حکام بڑی حد تک اپنے ملک کا انتظام اور سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ نیٹو اِس سلسلے میں افغانوں کی مدد کے لئے وہاں ضرور موجود رہے گی۔ میری اس بات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ طالبان یہ پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کریں کہ ہم وہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ ہم افغان عوام کی اس وقت تک مدد جاری رکھیں گے جب تک اس کی ضرورت رہے گی۔"

ISAF Kommandeur zieht Bilanz NATO Einsatz

نیٹو کے افغانستان میں کردار پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے

راسموسن نے مغربی دفاعی اتحاد میں شامل ممالک کے لئے نیٹو تنظیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا: " نیٹو، 28 ممالک کے تقریباً ایک ارب عوام کے یقینی تحفظ کے لئے بدستورکام کرتی رہے گی۔ بطور سیکرٹری جنرل نیٹو میری یہ کوشش ہوگی کہ اس ذمہ داری کو بھرپور انداز سے نبھایا جائے۔"

اس وقت افغانستان میں نیٹو کی قیادت میں بین الاقوامی حفاظتی فوج ISAF میں 42 ممالک کے 64 ہزار 500 فوجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

روس کے ساتھ نیٹو کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے راسموسن کا کہنا تھا: "میں سمجھتا ہوں کہ سیکرٹری جنرل کے طور پر میری مدت کے دوران ہمیں روس کے ساتھ ایک حقیقی دفاعی شراکت کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہم خاص طور پر ان معاملات میں تعاون کو مزید فروغ دے سکتے ہیں، جہاں نیٹو اور روس کی سیکیورٹی کے حوالے سے مفادات مشترک ہیں۔"

راسموسن نے مشرق وسطیٰ کے ممالک اور خاص طور پر مسلم دنیا کے ساتھ نیٹو کے تعلقات کو بھی بہت اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

ڈنمارک کےسابق وزیر اعظم آندرس فوگ راسموسن کو اپریل میں ہونے والے ایک اجلاس میں نیٹوکا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا تھا۔ 56 سالہ راسموسن تین مرتبہ ڈنمارک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور نیٹو اتحاد کی سربراہی کرنے والے سینئر ترین سیاست دان ہیں۔ سیکریٹری جنرل کے طور پر راسموسن نہ صرف مغربی دفاعی اتحاد کی کارکرگی کو مربوط بنائیں گے اور اس تنظیم کے عملے کی قیادت کریں گے بلکہ وہ اُس شمالی اوقیانوسی کونسل کی صدارت بھی کریں گے، جو سیاسی سطح پر نیٹو کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے۔

DW.COM