1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان مشن ادھورا چھوڑنے کے متحمل نہیں، نیٹو

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے خبردار کیا ہے افغانستان جنگ کی ناکامی تباہ کن ثابت ہوگی اور اس کے نتیجے میں پوری دُنیا دہشت گردی کی لپیٹ میں آجائے گی۔

default

نیٹو کے سیکریٹری جنرل یاپ ڈی ہوپ شیفر

Afghanistan ISAF-Offensive im Süden Provinz Helmand

افغانستان میں تعینات غیرملکی فوجیوں میں سے بیشتر کا تعلق امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سے ہے

لندن میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل یاپ ڈی ہوپ شیفر نے کہا کہ افغانستان مشن ادھورا چھوڑا گیا تو القاعدہ کو کھلا راستہ مل جائے گا جس کے نتائج پاکستان کو بھگتنا پڑیں گے، جبکہ عالمی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔

نیٹو کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک افغانستان مشن کو ادھورا چھوڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور نیٹو کے رکن ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ مشن ان کی اپنی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔

ان کا موقف تھا کہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے سلامتی کا خواب دیکھنے والے حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ یاپ ڈے ہوپ شیفر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان میں اتحادی فوجیوں کی ہلاکتوں میں قدرے اضافہ ہوا ہے۔ اس تناظر میں رواں ماہ انتہائی خطرناک رہا اور 2009 میں اب تک اسی مہینے میں سب سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ سال افغانستان جنگ کے لئے مشکل ترین قرار دیا جارہا ہے۔

عراق اور افغانستان میں فوجیوں کی ہلاکتوں کا ریکارڈ رکھنے والے ایک خودمختار بین الاقوامی ادارے کے مطابق اس سال اب تک افغانستان میں 192 اتحادی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اس تعداد میں حالیہ ہلاکتیں شامل نہیں ہیں۔

2001 سے اب تک جنگ زدہ افغانستان میں ہلاک ہونے برطانوی فوجیوں کی کم از کم تعداد 184 ہے۔ یہ تعداد عراق میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں سے زیادہ ہے جہاں 179 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اتنی زیادہ تعداد میں فوجیوں کی ہلاکت پر برطانیہ کو اندرون ملک شدید تنقید کا سامنا ہے اور بعض گروپ افغانستان سے فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تاہم برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن یہ واضح کر چکے ہیں کہ برطانیہ اور نیٹو کی سربراہی میں قائم انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس میں شامل اس کے اتحادی افغانستان مشن جاری رکھیں گے۔ افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی پے درپے ہلاکتوں نے لندن حکومت کو وضاحتیں دینے پر مجبور کیا اور وزیراعظم گورڈن براؤن کو ارکان پارلیمان کے نام ایک خط لکھنا پڑا جس میں انہوں نے حکومت کی افغانستان کے لئے پالیسی کو درست قررا دیا۔

Bildgalerie NATO Generalsekretär Jaap de Hoop Scheffer

یاپ ڈی ہوپ شیفر دورہ افغانستان کے موقع پر افغان نیشنل آرمی کے فوجیوں کے ساتھ

اُدھر امریکہ نے اپنی فوج میں عارضی اضافے کا اعلان کیا ہے۔ وزیردفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ آئندہ تین سال کے دوران 22 ہزار فوجی بھرتی کئے جائیں۔رابرٹ گیٹس نے بتایا کہ یہ فیصلہ عراق اور افغانستان جنگ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ کہ گزشتہ تین سال کے حالات کے باعث امریکی انتظامیہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آیا اس کی فوجی طاقت موجودہ حالات کے تناظر میں مناسب ہے یا نہیں۔ نئی بھرتیوں کے بعد امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ 69 ہزار ہو جائے گی۔ اس سے قبل امریکہ نے 2007 میں فوج میں اضافہ کیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسراعوان