1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان مذاکرات میں تعاون کے لئے تیار ہیں، پاکستانی وزیر خارجہ

فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے اجلاس سے قبل پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں ملکی حکومت کی طالبان سے بات چیت کی کوششیں ایک تعمیری اقدام ہے اور پاکستان اس بارے میں کابل انتظامیہ کی مدد کرنے پر تیار ہے۔

default

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

برسلز میں فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے اجلاس سے قبل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلام آباد اس سلسلے میں کابل سے تعاون کا اس لئے بھی خواہش مند ہے کہ افغانستان میں داخلی استحکام خود پاکستان کے ریاستی اور سکیورٹی مفاد میں ہے۔

کابل حکومت کی طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ مکالمت کی انہی کوششوں کے بارے میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور امریکہ کا کہنا یہ ہے کہ وہ بھی افغان صدر حامد کرزئی کی ان مصالحتی کاوشوں میں مدد پر تیار ہیں جبکہ اس سلسلے میں پاکستانی وزیر خارجہ نے واضح طور پر کہا کہ اسلام آباد کی خواہش یہ ہے کہ اس بات چیت میں قائدانہ کردار خود افغانستان کو ادا کرنا چاہئے۔

شاہ محمود قریشی کے بقول افغان حکومت کو اس مذاکراتی عمل کی قیادت خود اس لئے بھی کرنی چاہئے کہ مسئلہ افغانستان میں خونریزی پر قابو پانے کا ہے، جو پاکستان پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ قریشی نے کہا: ’’ہم اس معاملے میں مدد کرتے ہوئے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ ہم اپنے اس ہمسایہ ملک کو مستحکم اور پر امن دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

اسی دوران برسلز میں موجود ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے، جو افغان حکومت کے طالبان باغیوں کے ساتھ رابطوں سے اچھی طرح باخبر ہے، اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کابل حکومت کے طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ یہ رابطے اس بارے میں امریکی مخالفت کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہو سکے ہیں۔

Pakistan Konferenz Brüssel

پاکستانی وزیر خارجہ برسلز منعقدہ اجلاس سے قبل عالمی رہنماؤں کے ہمراہ

اسی لئے اس پس منظر میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے بھی رواں ہفتے کے شروع میں کہہ دیا تھا کہ امریکہ افغانستان میں قیام امن کے عمل کو مسلسل درست راستے پر رکھنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھانے پر تیار ہے۔

کابل حکومت کی طالبان سے بات چیت کے ذریعے انہیں اپنی مسلح جدوجہد ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی انہی کوششوں اور امریکہ اور نیٹو کی طرف سے ان کوششوں کی تائید کے پس منظر میں پاکستان کے ایک اعلیٰ اہلکار نے خبر ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ان کاوشوں کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لئے کم ازکم ایک باقاعدہ عمل شروع ہو گیا ہے۔

اس پاکستانی اہلکار کے بقول یہ درست ہے کہ طالبان سے مذاکرات کی کابل حکومت کی کوششیں ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہیں تاہم بذات خود اس ابتداء کو بھی اس لئے صرف ایک کامیابی کا نام ہی دیا جا سکتا ہے کہ ماضی میں واشنگٹن حکومت کی سیاسی اور عسکری مخالفت کے باعث ایسی کوئی کوشش عملی طور پر کی ہی نہیں جا سکی تھی۔

افغانستان میں حکومت اور طالبان کے مابین کسی بھی بات چیت کی کامیابی کے لئے پاکستان کی حمایت اس لئے بھی ضروری ہے کہ اسلام آباد بظاہر ابھی تک افغان طالبان پر کافی زیادہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور نیٹو کے قیادت کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات اور مصالحت کا یہ عمل بہت پیچیدہ ہے اور اسی وجہ سے شاید کوئی بہت بڑے نتائج یکدم سامنے نہ آئیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM