1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغان قیدی کے قتل کے الزام میں امریکی فوجی گرفتار

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے گروپس افغانستان میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات کی چھان بین کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ابھی حال ہی میں ایک امریکی فوجی کوایک قید ی کو تشدد کر کے ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتارکر لیا گیا۔

default

ٹیکسی ٹو دا ڈارک سائڈ ایک دستاویزی فلم ہے۔ یہ فلم دلاور نامی افغان ٹیکسی ڈرائیور کی کہانی ہے، جو امریکی فوج کی حراست میں ہلاک ہوگیا تھا۔ اس فلم کو بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ، ان بہت سے واقعات میں سے ایک ہے، جو افغانستان میں آئے دن رونما ہوتے ہیں۔ گزشتہ ویک اینڈ پر بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا، جب ایک طالبان قیدی امریکی حراست میں ہلاک ہوگیا۔ افغان صدر حامد کرزئی نےگزشتہ روز اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس افغان باشندے کو اتحادی فوج نے ہلاک کیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ افغان قیدی کے جسم پر گولیوں کے نشانات ہیں۔

US Luftwaffenstützpunkt Bagram

افغانستان میں کوئی خفیہ جیل موجود نہیں ہے، نیٹو

اس کے بعد افغانستان میں تعینات امریکی حکام نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ فوجی کوگرفتار کر لیا ہے۔ امریکی افواج کا کہنا ہےکہ وہ اس سلسلے میں تمام تر تحقیقاتی نتائج سے کابل حکام کو آگاہ کرتی رہے گی۔

اُس طالبان عسکریت پسند کوگزشتہ ہفتے کے روز صوبہ قندھارمیں قائم ایک عارضی جیل میں قید کیا گیا تھا۔ اسے نیٹو حکام کی تحویل میں دینا تھا کہ اتوار کے روز وہ ہلاک ہو گیا۔ تاہم اُس کی ہلاکت کی وجہ کے بارے میں ابھی کوئی حتمی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔ امریکی فوج کے ترجمان ریئرایڈمرل گریگ اسمتھ کا کہنا تھا کہ امریکی اہلکار قیدیوں کے برتاؤ کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افواج کو اس بات کی تربیت بھی دی جاتی ہے کہ قیدیوں کے حقوق کا ہر لحاظ سے خیال رکھا جائے اور اگر اس کی خلاف ورزی کئے جانے کی کوئی خبر ملتی ہے تو پوری طرح اس کی تحقیقات کی جاتی ہے۔

افغان قیدی کی ہلاکت کا معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ایک امریکی تھنک ٹینک نے اتحادی افواج پر افغانستان میں خفیہ جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔ پینٹاگون نےگزشتہ روز ہی ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

Neue Folterfotos aus Abu Graib

ابرغریب جیل میں تشدد کے واقعات کے بعد سے انسانی حقوق کی تنظیمیں امریکی افواج پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں

عراق کی ابو غریب جیل، گوانتانامو اور افغانستان کے بگرام ایئر بیس پر قائم جیلوں میں قیدیوں کو تشدد کرنے کے واقعات سامنے آنے کے بعد سے انسانی حقوق کے لئےکام کرنے والی تنظیمیں امریکی افواج پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم نیٹو حکام نے بتایا ہےکہ افغانستان میں کوئی خفیہ جیل نہیں ہے۔ افغانستان میں نیٹو اورآئی سیف کے فوجی دستوں کی کارروائیوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق محض گزشتہ ایک سال میں دو ہزار چار سوعام افغان شہری مارے جاچکے ہیں۔ اس کی مثال 2009ء میں اغوا شدہ دوآئل ٹینکرز پر نیٹو فوج کی بمباری تھی۔ نیٹو حکام نے تسلیم کیا تھا کہ اس کارروائی میں عسکریت پسندوں کے ساتھ عام شہری بھی بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے تھے۔ رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: کشور مصطفی

DW.COM

ویب لنکس