1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغان قیدی سے بدسلوکی، برطانوی فوجی کا جرم ثابت

کورٹ مارشل کے دوران ایک برطانوی فوجی پر ایک افغان قیدی کے ساتھ بدسلوکی کا جرم ثابت ہوگیا ہے۔ سارجنٹ مارک لیڈر کو اس جرم میں اگلے چند دنوں میں سزا سنا دی جائے گی۔

default

یہ واقعہ گزشتہ برس ہلمند میں آپریشن کے بعد پیش آیا تھا

مارک لیڈر پر الزام عائد تھا کہ انہوں نے افغان صوبے ہلمند کے علاقے سنگین میں ایک 48 سالہ افغان شہری محمد اخلاص کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ کورٹ مارشل کی یہ کارروائی بیلفورڈ کیمپ میں ہوئی۔ اس سے قبل مارک لیڈر کے ایک ساتھی کیپٹن جوڈی ویل ہاؤس نے اس واقعے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

سارجنٹ لیڈر نے عدالت سے کہا کہ انہوں نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے معلومات حاصل کرنے کا طریقہ اپنایا تھا۔

اس فوجی عدالت کے مطابق محمد اخلاص کو دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کا الزام میں حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں زیرحراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد انہیں تقریبا ایک میل کے فاصلے پر قائم فوجی اڈے میں منتقل کیا گیا، جہاں محمد اخلاص کے زخمی حالت کی تصاویر لی گئیں۔ پھر انہیں طبی امداد کے کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔ عدالت کے مطابق اس تشدد کے نتیجے میں محمد اخلاص کے ماتھے پر زخم آیا جبکہ کے ان کا ہونٹ پھٹنے پر امدادی کارکنوں کو چار ٹانکے لگانے پڑے۔

عدالت نے تشدد کے اس واقعے میں سارجنٹ لیڈر کے علاوہ لیمپسٹون، ڈیون اور کیپٹن ویل ہاؤس کو بھی مجرم پایا۔

عراق اور افغانستان میں متعین غیر ملکی فوجیوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بار ہا الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ غیر ملکی فوجی مقامی آبادیوں اور قیدیوں سے سخت سلوک روا رکھتے ہیں۔ ایسے الزامات کے تحت امریکی اور برطانوی فوجیوں کو پہلے بھی سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقر

ادارت: عابد حسین