1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’افغان قیادت کا دوہرا رویہ‘

افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کے پاس پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی نہ تو صلاحیت ہے اور نا ہی نیت۔ ان کے بقول جو پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہے گا وہ افغانستان کو نقصان پہنچائے گا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے پس منظر میں افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ کا ایک خوش آئند بیان سامنے آیا ہے۔ کابل میں پاکستانی صحافیوں کے ایک وفد سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا،’’جو پاکستان کو نقصان پہنچائے گا، وہ در اصل افغانستان کو نقصان پہنچائے گا۔‘‘

اس وفد میں شامل ايک پاکستانی صحافی خالد محمود نے کابل سے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’عبداللہ عبداللہ کے ساتھ ہماری ملاقات میں ان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک میں بد اعتمادی کو دور کرنا ہوگا۔‘‘ خالد محمود نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ عبداللہ عبداللہ کے مطابق انہوں نے چیف ایگزیکیٹیو بننے کے بعد سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اور داعش ایک حقیقت ہیں لیکن صرف افغانستان تنہا ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔ خالد محمود کہتے ہیں کہ افغان چیف ایگزیکیٹیو نے مزيد کہا کہ اگر ان کا ملک بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرے گا، تو کیا افغانستان میں موجود تقريباً چالیس ممالک کے نمائندگان کو معلوم نہیں ہو گا اور کیا وہ انہيں ایسا کرنے دیں گے؟

اس وفد میں شامل ایک اور پاکستانی صحافی بشیر چوہدری نے ڈی ڈبلیو کو اپنے مشاہدے کے بارے میں بتایا،’’کابل کے بارے میں سنتے تھے کہ یہ ہمارا برادر اسلامی ملک ہے لیکن یہاں پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ آپ روایتی حریف ملک بھارت آئے ہوئے ہیں۔ افغان قیادت کھل کر پاکستان کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ پاکستان افغانستان میں کئی ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے لیکن افغان قیادت پاکستان سے خوش نہیں ہے۔ افغان قیادت میں یہ خواہش ضرور  ہے کہ کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعےکم کیا جائے۔‘‘ بشیر چوہدری نے مزيد بتایا کہ ان کی سابق افغان صدر حامد کرزئی سے بھی ملاقات ہوئی جس میں کرزئی نے کہا کہ وہ رمضان کے بعد پاکستان کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پاک افغان تعلقات پر گہری نظر رکھنے والی پاکستانی تجزیہ کار ماروی سرمد نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا،’’ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو خدشہ ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ان خدشات کی جائز وجوہات ہو سکتی ہیں۔ افغانستان کے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں پاکستان مخالف جذبات نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ دو برسوں میں شدید سرحدی کشیدگی رہی ہے جس میں کئی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ پاکستان کو شک ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا معاملہ بڑھانے میں بھارت کا ہاتھ ہے۔ دونوں حکومتیں بڑھتی کشیدگی کے جواب میں سرحد بند کر دیتی ہیں جس سے عام افراد کی مشکلوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘‘

گُوگل میپس کے ذریعے سرحدی تنازعہ حل کرنے کی کوشش

بشیر چوہدری کی رائے میں افغان قیادت کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ افغان طالبان کی قیادت پاکستان میں موجود ہے اور وہ وہاں سے افغانستان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ اور اس کے ساتھ افغان قیادت پاکستان کا یہ الزام رد کرتی ہے کہ پاکستانی طالبان کے رہنما فضل اللہ افغانستان میں ہے اور وہاں سے پاکستان پر دہشت گردانہ حملے کر رہا ہے۔ دوسری جانب تجزیہ کار ماروی سرمد پُر امید ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’افغانستان کے حوالے سے امریکی پالیسی کامیاب نہیں ہوئی۔ جب روس نے امن عمل کے لیے کوششوں کا آغاز کیا تو ساتھ ہی امریکا میدان جنگ کو کابل کے قریب لے آیا۔‘‘ ماروی کی رائے میں افغانستان میں امن اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستان، چین، افغانستان اور امریکا کے درمیان چار فریقی مذاکرات کا آغاز دوبارہ کیا جانا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو اس عمل میں روس اور ایران  کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغان طالبان پر اپنا اثر ورسوخ بڑھاتے ہوئے انہیں افغانستان میں پر تشدد کاروائیوں سے روکنا ہو گا۔ طالبان اور دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 00:38

چمن میں افغان فورسز کی مبینہ فائرنگ

DW.COM

Audios and videos on the topic