1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان فورسز کی بڑی کارروائی، موسیٰ قلعہ پر دوبارہ قبضہ

افغان فورسز نے ملک کے جنوبی صوبے ہلمند کے عسکری حوالے سے انتہائی اہم ضلع موسیٰ قلعہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ ہلمند کے اس علاقے کو طالبان جنگجوؤں نے حکومتی دستوں کو پسپا کرتے ہوئے حال ہی میں اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

افغان دارالحکومت کابل سے اتوار تیس اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں میں حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہلمند کا اسٹریٹیجک طور پر یہ بہت اہم ضلع اب دوبارہ ملکی سکیورٹی دستوں کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔

ہلمند کے گورنر کے ترجمان عمر زواق نے آج اتوار کے روز کہا، ’’موسیٰ قلعہ پر دوبارہ قبضے کے لیے افغان حکومتی دستوں نے اپنے ایک بڑے آپریشن کا آغاز جمعہ اٹھائیس اگست کے روز کیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس لڑائی میں چھ سرکاری فوجی بھی مارے گئے جبکہ کم از کم چودہ دیگر زخمی بھی ہوئے۔‘‘

اس سے قبل طالبان عسکریت پسندوں نے موسیٰ قلعہ ہی سے ملکی سکیورٹی دستوں پر قریب ایک ہفتے تک کئی ہلاکت خیز حملے کرنے کے بعد اس پر بدھ چھبیس اگست کے روز قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن طالبان باغی اس ضلع پر اپنا کنٹرول محض تین چار دنوں تک ہی برقرار رکھ سکے اور جمعے کے روز اپنے آپریشن کا آغاز کرنے کے بعد سے اب افغان فورسز وہاں قابض ہو چکی ہیں اور طالبان جنگجوؤں کو اس ضلع سے باہر دھکیل دیا گیا ہے۔

صوبائی گورنر کے ترجمان عمر زواق کے مطابق موسیٰ قلعہ میں طالبان زیادہ دیر تک اس لیے اپنے قدم نہ جما سکے کہ ان کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران ملکی دستوں کو نیٹو کے جنگی طیاروں کی مدد بھی حاصل رہی۔

اسی دوران مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے بھی آج بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران ملکی سکیورٹی فورسز کی مدد کرتے ہوئے ہلمند کے اس ضلع میں طالبان شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر کم از کم تیرہ فضائی حملے کیے گئے۔

Afghanistan Kämpfe in Kundus

ہلمند میں افغان فورسز نے طالبان کے خلاف ایک بڑا آپریشن گزشتہ جمعے کے روز شروع کیا تھا

افغانستان کا یہ جنوبی صوبہ نہ صرف طالبان کی عسکری طاقت کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے بلکہ ملک میں ہیروئن کی پیداوار کا بہت بڑا حصہ بھی اسی صوبے میں پوست کی وسیع تر کاشت کا نتیجہ ہوتا ہے۔

افغان طالبان ہر سال سردیوں کے اختتام اور موسم بہار کے آغاز پر ملکی اور غیر ملکی فورسز کے خلاف جو بڑے حملے شروع کر دیتے ہیں، وہ اس سال بھی کیے گئے، جو ابھی تک جاری ہیں۔ اس دوران جن صوبوں میں خونریز عسکری کارروائیاں اور مسلسل جھڑپیں اب تک دیکھنے میں آ رہی ہیں، ان میں ہلمند بھی شامل ہے۔

DW.COM