1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان فورسز نے دو مغوی پاکستانی سفارتی اہلکار بازیاب کرا لیے

بدھ کو افغان سکیورٹی فورسز نے مشرقی صوبے ننگرہار سے دو مغوی پاکستانی سفارتی اہلکاروں کو بازیاب کرا لیا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ اِس بیان کے مطابق پاکستانی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے اپنے افغان ہم منصب کو فون کر کے سفارتی عملے کی بازیابی پر شکریہ ادا کیا۔

جلال آباد میں واقع پاکستانی قونصل خانے میں کام کرنے والے یہ دو اہلکار 16 جون کو اس وقت اغوا کر لیے گئے تھے، جب وہ سٹرک کے ذریعے پاکستان لوٹ رہے تھے۔

فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ان افراد کو کس طرح بازیاب کرایا گیا اور نہ ہی یہ تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ انہیں اغوا کرنے والے کون تھے۔

ننگرہار صوبے میں افغان حکومتی فورسز ایک طرف تو طالبان سے نبرد آزما ہیں اور دوسری جانب انہیں شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے حامیوں کا بھی سامنا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے ذاتی طور پر کابل میں سفارتی امور سے متعلق پاکستانی ذمہ دار کو فوج کے اس آپریشن کی اطلاع دی۔

Ashraf Ghani Sicherheitskonferenz Kabul (Reuters/O.Sobhani)

سفارتی اہلکاروں کی بازیابی کی خبر خود افغان صدر نے پاکستان کو دی

بتایا گیا ہے کہ ان مغویوں کو بدھ ہی کو کابل میں پاکستانی سفارت خانے منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ امید ہے کہ جلد ہی یہ پاکستان روانہ ہو جائیں گے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان اطلاعات کے حوالے سے افغان حکام سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔

سفارتی عملے کی بازیابی سے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے درمیان موجود کشیدہ تعلقات میں کسی حد تک بہتری کی جانب پیش قدمی کی نوید ملتی ہے۔

افغانستان اور پاکستان ایک دوسرے پر شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین سرحد پار حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے جب کہ دونوں ہی حکومتیں ان الزامات کو رد بھی کرتی ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ کابل حکومت افغان سرزمین پر موجود پاکستانی طالبان کے خلاف کافی اقدامات نہیں کر رہی ہے اور وہ سرحد پار سے پاکستانی سرزمین پر حملوں میں ملوث ہیں۔