1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان فورسز قندوز کو طالبان کے قبضے سے چھڑانے میں ناکام

افغانستان کے شمالی شہر قندوز پر قابض طالبان باغی اپنی عسکری طاقت استعمال کرتے ہوئے حکومتی فورسز اور کابل کی طرف سے بھیجے گئے اضافی دستوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور قندوز شہر تاحال طالبان کے قبضے میں ہے۔

Afghanistan Taliban

قندوز میں طالبان سرکاری دستوں کے خلاف اپنے حملے تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں

افغان دارالحکومت کابل سے بدھ تیس ستمبر کے روز موصولہ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق شمالی صوبے قندوز کے اسی نام کے دارالحکومت پر قابض طالبان عسکریت پسندوں نے آج بدھ کے روز نہ صرف حکومتی فورسز پر تازہ حملے کیے بلکہ وہ ان اضافی مسلح دستوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، جو کابل حکومت نے قندوز پر عسکریت پسندوں کے قبضے کے خاتمے کے لیے وہاں پہلے سے موجود سرکاری دستوں کی مدد کے لیے بھیجے ہیں۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ آج بدھ کے روز طالبان قندوز شہر کے مضافات میں ایک فوجی اڈے پر بھی قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ طالبان نے ایک بڑی عسکری کارروائی کے نتیجے میں دو روز قبل اسٹریٹیجک حوالے سے بہت اہم صوبے قندوز کے دارالحکومت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

قندوز کی صوبائی کونسل کے ایک رکن سید اسداللہ سادات نے صحافیوں کو بتایا کہ طالبان نے اب بالا حصار ملٹری کیمپ پر بھی قبضہ کر لیا ہے اور افغان نیشنل آرمی کے 60 کے قریب فوجیوں نے بھی ہتھیار پھینک کر خود کو طالبان کے حوالے کر دیا۔

قندوز کی صوبائی کونسل کے ایک اور رکن امین اللہ نے ڈی پی اے کو بتایا، ’’بالا حصار ملٹری کیمپ کے سرکاری فوجیوں نے طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ اس اتفاق رائے کے ذریعے اپنی جانیں بچائیں کہ اگر انہیں ہلاک کرنے کی بجائے زندہ وہاں سے رخصت ہونے دیا جائے تو وہ اپنے ہتھیاروں اور گولہ بارود میں سے آدھا حصہ وہیں پر (طالبان کے پاس) چھوڑ جائیں گے۔‘‘

بالا حصار نامی یہ فوجی اڈہ قندوز شہر سے شمال کی طرف واقع ہے اور یہ کیمپ اس شاہراہ تک رسائی کے لیے انتہائی اہم ہے، جو شیر خان بندر تک جاتی ہے۔ شیر خان بندر ایک ایسا شہر ہے جو افغانستان کی تاجکستان کے ساتھ سرحد پر واقع ہے۔

افغان طالبان نے قندوز کے دارالحکومت قندوز شہر پر، جس کی آبادی قریب تین لاکھ ہے، اس اچانک لیکن بڑے مسلح حملے کے بعد قبضہ کر لیا تھا، جس میں سینکڑوں کی تعداد میں جنگجو شامل ہوئے تھے اور جس دوران عسکریت پسندوں نے سرکاری دستوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا تھا۔

قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن سید اسداللہ سادات نے بتایا، ’’طالبان ابھی تک نہ صرف قندوز شہر پر قابض ہیں بلکہ وہ اپنی عسکری پوزیشنوں پر بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ملکی حکومت کی طرف سے بھیجے گئے ان اضافی فوجی دستوں کو بھی نشانہ بنایا جو کابل اور تخار سے قندوز پہنچنا چاہتے تھے۔ انہی حملوں کے باعث ابھی تک یہ اضافی دستے قندوز تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘

Afghanistan Gegenoffensive nach Einnahme Kundus durch Taliban

’طالبان عسکریت پسندوں نے کابل اور تخار سے اپنے خلاف بھیجے گئے اضافی فوجی دستوں کو ابھی تک قندوز پہنچنے نہیں دیا‘

سادات نے صحافیوں کو بتایا، ’’مجھے حکومت کی اس عسکری صلاحیت پر سنجیدگی سے شبہ ہے کہ وہ قندوز کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے سکتی ہے۔ قندوز میں افغان فورسز اور حکومتی اہلکار ابھی تک اس پہاڑی پر موجود ہیں، جسے طالبان نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے اور جہاں پر شہر کا ہوائی اڈہ قائم ہے۔ ڈی پی اے کے مطابق ان محصور افغان دستوں اور حکام پر طالبان کے حملے منگل کو رات بھر جاری رہے اور بدھ کی صبح بھی ان میں کوئی وقفہ نہیں آیا تھا۔

ایک اور افغان اہلکار کے مطابق امریکا اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کابل حکومت کے دستوں کی مدد کرتے ہوئے ان کوششوں میں ہیں کہ افغان حکومتی دستے کسی طرح قندوز کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیں۔

اسی دوران امریکی دستوں کی طرف سے منگل اور بدھ کی درمیانی رات قندوز میں تین بار فضائی حملے بھی کیے گئے، جن میں سے دو میں نشانہ شہر کے ہوائی اڈے کے قریبی اہداف کو بنایا گیا۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل برائین ترائبس کے بقول یہ فضائی حملے اس لیے کیے گئے کہ وہاں پھنسی افغان اور اتحادی فورسز کی حفاظت کی جا سکے۔

دریں اثنا طالبان کے مقامی کمانڈر ملا عثمان نے کہا ہے کہ قندوز شہر کا زیادہ تر حصہ طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ دوسری طرف کابل میں ملکی پارلیمان نے قندوز پر طالبان کے قبضے کی وجوہات جاننے کے لیے قومی سلامتی کونسل کے ارکان، جن میں انٹیلیجنس کے سربراہ، وزیر داخلہ اور قائم مقام وزیر دفاع بھی شامل ہیں، کو طلب کر لیا ہے۔

افغان پارلیمان کے ایک رکن اقبال صافی نے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’جس طرح حکومت قندوز میں موجودہ صورت حال سے نمٹ رہی ہے، وہ حقیقی معنوں میں شرمناک ہے۔‘‘

DW.COM