1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان فوجی کے ہاتھوں دو نیٹو فوجیوں کا قتل، تحقیقات شروع

نیٹو اور افغان حکام نے ایک افغان فوجی کے ہاتھوں دو نیٹو فوجیوں کے قتل کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ واقعہ شورش زدہ افغان صوبے ہلمند میں جمعرات کے روز پیش آیا تھا۔

default

نیٹو کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کو بتایا کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے دونوں فوجیوں کا تعلق امریکہ سے تھا اور یہ واقعہ جمعرات کی شب پیش آیا تھا۔

اس عہدیدار کے مطابق ان امریکی فوجیوں کی اس وقت ہلاک کیا گیا تھا، جب وہ رات کے وقت فارورڈ آپریٹنگ بیس FOB میں پہرے داری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

Heftige Kämpfe der NATO geführten Schutztruppen in Südafghanistan nahe Kandahar

نیٹو نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے

’’ان پہرے داروں کو رات گئے ہلاک کیا گیا اور اگلی صبح ایک افغان فوجی اس فوجی اڈے سے غائب تھا۔ یہ افغان فوجی ابھی دو یا تین ہفتے قبل ہی اس فوجی اڈے میں متعین کیا گیا تھا۔‘‘

نیٹو کے میڈیا دفتر نے فی الحال ان خبروں کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم کہا گیا ہے کہ نیٹو اس واقعے سے آگاہ ہے۔

کوئی دیگر تفصیل فراہم کئے بغیر نیٹو دفتر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ آئی سیف اور افغان حکام کی ایک ٹیم اس واقعے کی تفتیش شروع کر چکی ہے۔

اس واقعے سے متعلق پہلی اطلاع ایک غیر معتبر سمجھی جانے والی نیوز ایجنسی افغان اسلامک پریس کی طرف سے ہفتے کے روز سامنے آئی تھی۔ اس خبر رساں ادارے کو اس لئے بھی ناقابل اعتبار سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس پر طالبان کی پروپیگنڈا مہم کو آگے بڑھانے اور عسکریت پسندوں کے دعووں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔

Hamid Karzai

صدرکرزئی طالبان سے مذاکرات کے حامی ہیں

ہفتے کے روز اس نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں ایک طالبان ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اس واقعے میں ملوث افغان فوجی دراصل طالبان عسکریت پسند تھا۔ اس نیوز ایجنسی کے مطابق یہ افغان فوجی بعد میں فرار ہو کر عسکریت پسندوں سے جا ملا۔

گزشتہ کچھ عرصے میں افغانستان میں طالبان کی پرتشدد کارروائیوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ وہاں کرزئی حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

ہفتے کے روز سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے طالبان کے ساتھ بات چیت کے سلسلے میں مدد کی درخواست پر اس وقت تک عمل نہیں ہو سکتا، جب تک طالبان دہشت پسندوں کے ساتھ تعاون ختم نہیں کر دیتے۔ گزشتہ ماہ افغانستان کی نئی امن کونسل نے سعودی عرب سے درخواست کی تھی کہ وہ طالبان کے ساتھ کرزئی حکومت کی امن کوششوں میں کابل کی مدد کرے۔

رپورٹ: عاطف توقیر / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس