1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افغان، عراقی اور صومالی پناہ گزينوں کے ليے بُری خبر

فن لينڈ ميں افغانستان، عراق اور صوماليہ سے تعلق رکھنے والے مہاجرين کو پناہ کی فراہمی سے متعلق قوانين ميں سختی متعارف کرا دی گئی ہے۔ ہیلسنکی حکام کے مطابق ان ملکوں سے تعلق رکھنے والوں کے ليے اب اپنے ملک لوٹنا ’محفوظ‘ ہے۔

جنوبی و وسطی ايشيا کے ملک افغانستان، مشرق وسطیٰ کے ملک عراق اور افريقی رياست صوماليہ ميں جاری مسلح تنازعات کے باوجود وہاں سلامتی کی مجموعی صورتحال اس حد تک بہتر ہو چکی ہے کہ ان ملکوں سے تعلق رکھنے والے پناہ گزينوں کے ليے اب اپنے ملک کے کچھ حصوں کی طرف لوٹنا محفوظ ہے۔ يہ بيان يورپی يونين کی رکن رياست فن لينڈ ميں اميگريشن حکام کی جانب سے منگل سترہ مئی کے روز جاری کيا گيا۔ مہاجرين کے ليے کام کرنے والی ايجنسيوں کی جانب سے اس بارے ميں فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہيں آيا ہے۔

فن لينڈ کی اميگريشن سروسز کی طرف سے جاری کردہ بيان ميں کہا گيا، ’’اس فيصلے کی روشنی ميں افغانستان، عراق اور صوماليہ سے تعلق رکھنے والے سياسی پناہ کے متلاشی افراد کے ليے فن لينڈ ميں رہائش کی اجازت حاصل کرنا مزيد مشکل ثابت ہو گا۔‘‘ بيان ميں مزيد کہا گيا ہے کہ سياسی پناہ کے متلاشی افراد ان تينوں ممالک کے تمام حصوں ميں جا سکتے ہيں۔ حکام کے مطابق پناہ گزينوں کو فن لينڈ ميں اسی صورت قيام کی اجازت دی جائے گی، جب وہ يہ ثابت کر سکيں کہ انہيں انفرادی طور پر براہ راست کوئی خطرہ لاحق ہے۔

قريب دو دہائيوں تک جاری رہنے والے جنگ و جدل کے بعد صوماليہ ميں آہستہ آہستہ امن قائم ہو رہا ہے تاہم موغاديشو حکومت انتہا پسند مليشيا الشباب کے خلاف بدستور برسرپيکار ہے۔ يہ مليشيا ملک کے کئی حصوں، بالخصوص دارالحکومت موغاديشو‘ ميں حملے کرتی رہتی ہے۔ دريں اثناء مشرق وسطیٰ ميں سرگرم دہشت گرد تنظيم ’اسلامک اسٹيٹ‘ عراق کے کئی شہروں اور ميدانی علاقوں پر اب بھی قابض ہے۔ متعدد محاذوں پر ناکامی کے باوجود جنگجو بغداد کے زير کنٹرول سويلين علاقوں کو نشانہ بنانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہيں اور پچھلے ايک ہفتے کے اندر ايسے حملوں ميں ايک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔ اسی طرح اگر افغانستان پر نظر ڈالی جائے تو وہاں بھی افغان طالبان نے گزشتہ ماہ ہی سے اپنی موسم بہار کی خونريز سرگرميوں کا آغاز کر رکھا ہے۔

سن 2015 ميں فن لينڈ ميں تقريباً ساڑھے بتيس ہزار افراد نے سياسی پناہ کے ليے درخواستيں جمع کرائيں

سن 2015 ميں فن لينڈ ميں تقريباً ساڑھے بتيس ہزار افراد نے سياسی پناہ کے ليے درخواستيں جمع کرائيں

فن لينڈ کی مرکز سے دائيں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی مخلوط حکومت، جس ميں قوم پرست ’فنز پارٹی‘ بھی شامل ہے، نے گزشتہ برس ہزارہا تارکين وطن کی آمد کے بعد سے اپنی اميگريشن پاليسياں سخت تر کر دی ہيں۔ خود کو ’محب وطن‘ کہنے والے کئی گروپوں کے ارکان وہاں ريلياں نکالتے رہتے ہيں اور مختلف علاقوں ميں گشت کرتے نظر آتے ہيں۔ ان کے بقول وہ ايسا مقامی لوگوں کی حفاظت کو يقينی بنانے کے ليے کر رہے ہيں۔

گزشتہ برس يعنی سن 2015 ميں فن لينڈ ميں تقريباً ساڑھے بتيس ہزار افراد نے سياسی پناہ کے ليے درخواستيں جمع کرائيں جبکہ سن 2014 ميں يہ تعداد صرف 3,600 تھی۔ ان ميں اکثريتی طور پر افغانستان، عراق اور صوماليہ سے تعلق رکھنے والے مہاجرين تھے۔