1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان طالبان کے رہنما کی ہلاکت: اب ہو گا کیا؟

امریکی حکام کے مطابق افغان طالبان کا رہنما ملا منصور ہفتے کے روز ایک ڈرون حملے میں مارا گیا۔ کابل حکومت نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ ملا اختر منصور کی موت کے کیا نتائج نکلیں گے اور اب ہو گا کیا؟

Taliban Kämpfer Symbolbild

افغانستان کی طالبان تحریک کے مسلح عسکریت پسند

امریکی محکمہ دفاع کے بیانات کے مطابق اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ ایک گاڑی میں سفر کرنے والے ملا اختر منصور کو پاک افغان سرحد کے قریب لیکن پاکستانی علاقے میں متعدد ڈرون طیاروں سے بیک وقت کیے گئے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ حملہ صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی کے ایک قصبے احمد وال کے نواح میں کیا گیا، جو افغانستان کے ساتھ سرحد سے اتنا قریب بھی نہیں ہے۔

اس موضوع پر پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے اپنے ایک تفصیلی جائزے میں خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لکھا ہے کہ جولائی 2015ء میں جب ملا عمر کی موت کی تصدیق ہو گئی تھی تو ملا اختر منصور کے افغان طالبان کا سربراہ چنے جانے کے بعد طالبان عسکریت پسندوں کے افغانستان میں مقامی سکیورٹی دستوں اور اتحادی فوجیوں پر کیے جانے والے حملوں میں تیزی آ گئی تھی۔ اس تناظر میں یہ سوال اپنی جگہ بجا ہے کہ اب ہندوکش کی اس ریاست میں طالبان کی مسلح مزاحمتی تحریک اور قیام امن کے عمل کا کیا بنے گا؟

جانشینی کا امیدوار کون کون

ملا اختر منصور کے افغانستان میں طالبان کی مسلح تحریک کا سربراہ چنے جانے کے بعد عسکریت پسندوں کے کابل حکومت اور اس کے غیر ملکی اتحادیوں کے مفادات پر حملے کم ہونے کی بجائے تیز تر ہو گئے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملا منصور کے پیش رو ملا عمر کی موت کی خبر اگر دو سال تک خفیہ رکھی گئی تھی، تو اس میں بھی ملا منصور کی حکمت عملی کا بڑا عمل دخل تھا۔ اب اگر ملا منصور کا جانشین منتخب کرنے کی باری آئی، تو امیدوار عسکریت پسند کمانڈروں کی فہرست تقریباﹰ وہی ہو گی، جو گزشتہ برس موسم گرما میں تھی۔

Mullah Akhtar Mohammad Mansour

ملا اختر منصور

اس فہرست میں ایک بار پھر ملا عمر کا بیٹا ملا یعقوب بھی شامل ہو گا، جو ابھی بھی ’بہت نوجوان اور ناتجربہ کار‘ تو سمجھا جاتا ہے لیکن طالبان کے متعدد کمانڈر اس کے حامی ہیں۔ طالبان کی مستقبل کی قیادت کے لیے ایک اور مضبوط امیدوار ملا عبدالمنان اخوند ہو گا، جو ملا عمر کا بھائی ہے۔ ملا منصور نے طالبان کا رہنما بننے کے بعد ان دونوں کو اس تحریک کی قیادتی کونسل میں مرکزی عہدے دیے تھے اور یہ دونوں ہی طاقت ور امیدوار خیال کیے جاتے ہیں۔

حقانی اور اخوندزادہ بھی

اے ایف پی کے مطابق ملا منصور کی جانشینی کی دوڑ میں طالبان کے اس رہنما کے دو نائب بھی طاقت ور امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک تو بہت بااثر مذہبی شخصیت ہے، جس کا نام ہیبت اللہ اخوندزادہ ہے اور دوسرا سراج الدین حقانی جو طالبان کے اتحادی عسکریت پسند گروہ ’حقانی نیٹ ورک‘ کا لیڈر ہے اور جس کا گروپ آج تک افغانستان میں کیے گئے مقامی اور امریکی اہداف پر بدترین حملوں میں سے متعدد کا ذمے دار رہا ہے۔ پاکستان کے ایک سکیورٹی تجزیہ کار عامر رانا کے بقول ’ممکن ہے کہ حقانی کے لیے یہی وہ سب سے سود مند وقت ثابت ہو کہ وہ طالبان کی پوری تحریک کی قیادت سنبھال لے‘۔

امن مذاکرات پر ممکنہ اثرات

کئی سکیورٹی ماہرین کی رائے میں ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق کا ایک نتیجہ تو یہ بھی نکلے گا کہ افغانستان میں قیام امن اور طالبان سے براہ راست مذاکرات کی اب تک جمود کا شکار کوششیں آگے یا پیچھے، کسی بھی طرف جا سکیں گی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ طالبان کا آئندہ لیڈر کون ہو گا۔

Bildergalerie IS in Afghanistan

اب داعش افغانستان میں قدم جمانے کی اپنی کوششیں تیز کر سکتی ہے

افغانستان کی خانہ جنگی پر قریب سے نظر رکھنے والے ماہر اور مصنف احمد رشید کی رائے میں ملا منصور کی موت امن کوششوں میں مددگار بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ’’اگر عسکریت پسندوں کا کوئی اعتدال پسند رہنما نیا لیڈر منتخب کر لیا گیا تو اس سے امن کوششوں کو فائدہ ہو گا۔‘‘

ایک امکان یہ بھی ہے کہ اگر طالبان کی صفوں میں انتشار پیدا ہو گیا اور طاقت کی کشمکش شروع ہو گئی تو طالبان کے خلاف سرگرم افغان دستوں کو ’سانس لینے کا موقع‘ بھی مل جائے گا۔ لیکن دشمن کے تقسیم ہونے یا اسے تقسیم کر کے فائدہ اٹھانے کی سوچ کے ممکنہ طور پر الٹے نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔

امن عمل کے مشکل تر ہو جانے کا خدشہ

کسی تحریک کا رہنما مارا جائے تو داخلی تقسیم ناممکن نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہ امکان بھی اپنی جگہ ہے کہ ملا منصور کی موت کے بعد افغانستان میں نہ صرف طالبان میں ٹوٹ پھوٹ پیدا ہو سکتی ہے بلکہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش اور ’ازبکستان کی اسلامی تحریک‘ جیسے عسکریت پسند گروہ بھی اس ملک میں اپنے قدم جمانے کی کوششیں تیز تر کر دیں گے۔ پھر اگر طالبان اور ان کے اتحادیوں میں مختلف گروہ بندیاں بھی ہو گئیں تو ان سے مذاکرات کی خواہش مند کابل حکومت کے لیے یہ مزید مشکل ہو جائے گا کہ وہ مکالمت کرے بھی تو کس کے ساتھ۔ ایک قیادت کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے مقابلے میں بہت سے گروپوں کے رہنماؤں کو ایک جگہ لانا اور پھر ان کے ساتھ اپنی خواہش کے مطابق کوئی ’اچھا تصفیہ‘ کر لینا اور بھی صبر آزما ثابت ہو سکتا ہے۔

DW.COM