افغان طالبان کے خلاف کارروائی میں مدد کر سکتا ہوں، امریکی جنرل | حالات حاضرہ | DW | 21.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان طالبان کے خلاف کارروائی میں مدد کر سکتا ہوں، امریکی جنرل

افغانستان کے ایک بڑے علاقے پر طالبان کے کنٹرول کے حوالے سے ایک امریکی جنرل نے تشویش کا اظہار  کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ طالبان کو شکست دینے کی کوششوں میں افغان دستوں کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔

جنرل جان نکلسن نے انسداد دہشت گردی کے اعداد و شمار پر مشتمل  ایک دستاویز کے حوالے سے بتایا ہےکہ افغانستان کے اسی فیصد علاقے پر قبضہ اس سولہ سالہ پرانے تنازعے کا ایک اہم موڑ ہے، ’’ہمارے خیال میں دشمن کو پیچھے دھکیلنے کا یہ بہترین موقع ہے‘‘۔

امریکی سربراہی میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران طالبان سے آزاد کرائے جانے والے زیادہ تر علاقے غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد دوبارہ اس شدت پسند تنظیم کے زیر اثر چلے گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی گزشتہ دنوں کے دوران مزید تین ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجے ہیں، جس کی بعد اس ملک میں امریکی  فوجیوں کی تعداد بڑھ کر چودہ ہزار ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ عراق اور شام میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف ہونے والی کامیابیوں کے بعد پینٹاگون نے افغانستان پر اپنی توجہ مزید بڑھ دی ہے۔ جان نکلسن کے بقول 2012ء کے بعد افغانستان میں امریکی فضائی کارروائیاں آج کل اپنے عروج پر ہیں۔ یہ امریکی تاریخ کی اب تک کی سب سے طویل ترین جنگ ہے۔

’’یرغمالیوں کو مار ڈالو‘‘

نیٹو کا افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ

اگست میں افغانستان کے 407 اضلاع کا تیرہ فیصد علاقہ یا تو طالبان کے قبضے میں تھا یا پھر ان کے زیر اثر جبکہ رواں برس فروری میں یہ شرح گیارہ فیصد تھی۔ کئی ماہرین کا خیال افغانستان کی جنگ صرف فوجی کارروائیوں کے ذریعے ہی نہیں جیتی جا سکتی اور خاص طور پر ان حالات میں جب طالبان پاکستان میں موجود اپنے محفوظ ٹھکانوں سے فائدے اٹھا رہے ہیں۔ امریکی فوج کے کچھ سابق اور حاضر سروس افسران نے بھی ماہرین کی اس رائے سے اتفاق کیا ہے۔

 

ویڈیو دیکھیے 04:27

’پاکستان اب طالبان پر اثر و رسوخ کھو چکا ہے‘

DW.COM

Audios and videos on the topic