1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان طالبان کی لڑائی کا رخ اب سیدھا پولیس اور فوج کی طرف

افغانستان کی موجودہ جنگ کو شروع ہوئے سولہ برس ہو چکے ہیں اور طالبان باغیوں کی صفوں میں ابھی تک تھکن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ان عسکریت پسندوں نے تو اب اپنی لڑائی کا رخ سیدھا افغان پولیس اور فوج کی طرف کر دیا ہے۔

ہندو کش کی اس ریاست کے دارالحکومت کابل سے جمعرات انیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی ایک مفصل تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کابل حکومت کے دستوں کے خلاف ہر سال موسم بہار میں اپنی عسکری کارروائیاں تیز تر کر دیتے ہیں۔

اس سال اپریل کے اواخر میں طالبان نے اپنے مسلح حملوں میں اضافے کے ساتھ جب ایک بار پھر اسی عسکری سوچ کا عملی مظاہرہ کیا، تو فرق یہ پڑا کہ اب جب کہ موسم خزاں بھی اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، نہ تو یہ حملےکم ہوئے اور نہ ہی ان کی ہلاکت خیزی۔

افغانستان: قندھار ميں طالبان کا بڑا حملہ، درجنوں فوجی ہلاک

افغان طالبان کے حملوں میں 72 افراد ہلاک، 200 سے زائد زخمی

مسقط مذاکرات: کیا افغان طالبان کے بغیر کامیاب ہوں گے؟

گزشتہ چند ماہ سے طالبان افغان فوج اور پولیس کی چوکیوں اور سکیورٹی دستوں کے تربیتی مراکز پر اپنے بڑے حملوں میں کافی تیزی لا چکے ہیں۔ اس دوران گزشتہ صرف ایک ہفتے کے دوران ہی مختلف صوبوں میں حکومتی دستوں پر جو بڑے اور زیادہ تر خود کش بم حملے کیے گئے، ان میں سوا سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں بنتی ہے۔

Anschlag auf die deutsche Botschaft in Kabul

اس سال جون میں کابل میں جرمن سفارت خانے کے قریب کیے گئے کار بم دھماکے میں 80 افراد ہلاک اور 463 زخمی ہو گئے تھے

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ امریکا پر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف امریکا کی قیادت میں جو فوجی مداخلت کی گئی تھی، اس دوران کابل میں طالبان کی ملکی حکومت کو ختم ہونے میں تو چند ہفتے ہی لگے تھے۔ لیکن اس وقت سے ہندو کش کے پہاڑی سلسلے میں واقع اس ریاست میں جو جنگ جاری ہے، اسے اب 16 برس ہو چکے ہیں۔ یہی جنگ امریکا کی تاریخ کی طویل ترین غیر ملکی جنگ بھی بن چکی ہے۔

افغانستان: فضائی حملوں میں پچاس فیصد سے زائد شہری ہلاک

پاکستانی فوج کی کارروائی، غیر ملکی مغوی بازیاب

پاک افغان سرحدی دیہات میں دیوار برلن جیسی تقسیم کی تیاریاں

افغانستان کی موجودہ جنگ کی پریشان کن بات یہ بھی ہے کہ دو ہزار ایک کے اواخر سے اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھنے والے طالبان کی صفوں میں ابھی تک تھکن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اس کے برعکس طالبان مزاحمت کاروں نے تو پہلے ہی سے مسائل اور مشکلات کے شکار سرکاری دستوں کے خلاف اپنی جنگی کارروائیان اتنی تیز کر دی ہیں کہ عشروں کی خانہ جنگی سے تباہ حال اس ملک میں عدم تحفظ کا احساس مسلسل شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

دسمبر 2014ء میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجی دستوں نے افغانستان میں اپنی باقاعدہ جنگی کارروائیاں ختم کر دی تھیں۔ اس کے بعد سے اس ملک میں طالبان کی عسکری طاقت اور ان کے حملوں کی ہلاکت خیزی دونوں میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

Afghanistan Anschlag auf Parlamentarier in Kabul - Sohn verletzt

گزشتہ برس افغانستان میں عسکریت پسندوں کے خونریز حملوں میں چھ ہزار آٹھ سو فوجی اور پولیس اہلکار مارے گئے تھے

دوسری طرف فوج ہو یا پولیس، کابل حکومت کی سکیورٹی فورسز کے لیے ان کی اپنی سلامتی کے مسائل میں اضافہ اس لیے بھی ہوتا جا رہا ہے کہ یہ دستے اپنے ساتھیوں کی مسلسل زیادہ ہوتی جا رہی ہلاکتوں سے بد دل بھی ہوتے ہیں، ان میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے بجائے اپنی ملازمتوں سے بھاگ جانے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے اور کرپشن کے ساتھ ساتھ تشویش کی ایک بات یہ بھی ہے کہ ان فورسز کے کئی ارکان ایسے بھی ہیں، جو کاغذ پر تو ملازمتیں کرتے ہیں مگر جن کا جسمانی طور پر کوئی وجود ہوتا ہی نہیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:15

’پاکستانی فوج کے سربراہ کا دورہ کابل بہت مثبت قدم تھا‘ معید یوسف

افغانستان کی تعمیر نو اور فوجی امداد سے متعلق امریکی سرگرمیوں کے نگران احتسابی ادارے (SIGAR) کے مطابق 2016ء میں اس ملک میں طالبان عسکریت پسندوں یا دیگر شدت پسند تنظیموں کے حملوں میں مارے جانے والے سرکاری فوجیوں یا پولیس اہلکاورں کی تعداد 6,800 رہی تھی، جو 2015ء کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ تھی۔ 2017ء ابھی ختم نہیں ہوا لیکن اسی امریکی ادارے کو خدشہ ہے کہ اس سال افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد شاید گزشتہ برس سے بھی زیادہ رہے گی۔ اس خدشے کا سبب یہ ہے کہ اس سال موسم بہار میں طالبان کے حملوں میں سکیورٹی دستوں کو پہنچنے والا جانی نقصان ’دہلا دینے والی حد تک زیادہ‘ تھا۔ پھر سال رواں کی تیسری سہ ماہی اور چوتھی سہ ماہی میں اب تک ہر روز طالبان کے بڑے حملوں کی جو رپورٹیں ملتی رہی ہیں، ان میں بھی ہلاکتوں کی تعداد ایک دو نہیں بلکہ بہت سے واقعات میں درجنوں یا بیسیوں میں ہوتی ہے۔

افغانستان کی اسی موجودہ صورت حال کے حوالے سے کئی سکیورٹی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ افغان جنگ عنقریب ختم ہو سکے گی، فی الحال یہ کہنا وہاں کے زمینی حقائق کے عین منافی ہو گا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic