1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان طالبان نے مشتبہ چور کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹ دیا

افغان صوبے ہرات میں طالبان نے مبینہ طور پر ایک مشتبہ چور کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹ دیا۔ افغان حکام کے مطابق اس مبینہ چور کو یہ ’سزا‘ پیر کے دن صوبے ہرات کے ضلع اوبے میں سرعام دی گئی۔

خبر رساں ادارے اے پی نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ صوبے ہرات کے ضلع اوبے میں طالبان عسکریت پسندوں نے ایک مشتبہ چور کو سر عام سزا دیتے ہوئے اس کے ایک ہاتھ اور ایک پیر کاٹ دیا۔ اس نوجوان مشتبہ چور کی شناخت غلام فاروق کے نام سے کی گئی ہے۔ طالبان ہرات صوبے کے کئی اضلاع پر قابض ہیں اور وہاں انہوں نے انصاف کا اپنا ہی نظام قائم کر رکھا ہے۔

اورکزئی ایجنسی میں طالبان نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹ دیا

پاکستانی طالبان نے تین مشتبہ چوروں کے ہاتھ کاٹ دئے
افغان طالبان نے ایک اور خاتون کو سنگسار کر دیا

صوبائی کونسل کے ترجمان غلام جیلانی فرہاد نے بتایا ہے کہ غلام فاروق اس وقت ہرات کے مرکزی ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ضلعی پولیس کے سربراہ شیر آغا الوک زئی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔ طالبان کی طرف سے البتہ اس بارے میں ابھی تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں نوے کی دہائی میں سخت اسلامی قوانین کا نفاذ کیا گیا تھا تاہم نائن الیون حملوں کے بعد جب امریکی اتحادی فوج نے اس وسطی ایشیائی ملک میں عسکری کارروائی شروع کی تھی تو کئی علاقوں سے طالبان کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔

Afghanistan Taliban Kämpfer (Getty Images/AFP/J. Tanveer)

طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں نوے کی دہائی میں سخت اسلامی قوانین کا نفاذ کیا گیا تھا

حالیہ کچھ عرصے سے طالبان نے اپنی کارروائیوں میں ایک مرتبہ پھر شدت پیدا کر دی ہے اور بالخصوص نیٹو فوجی مشن کے بعد سے یہ شدت پسند کئی علاقوں پر دوبارہ قبضہ جمانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق افغان طالبان نے اپنے زیرقبضہ علاقوں میں ایک مرتبہ پھر مشتبہ ملزمان کو سر عام سزائیں دینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

دوسری طرف افغان صوبے پکتیکا میں طالبان کے ایک کمانڈر کی تدفین کے لیے جمع ہونے والے افراد پر فضائی حملہ کیا گیا، جس میں کم ازکم انتیس باغیوں کے ہلاک ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ صوبائی گورنر کے ترجمان محمد رحمان نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ فضائی حملہ ’بیرونی فورسز‘ نے کیا۔ ان کا اشارہ نیٹو کی طرف تھا۔

DW.COM