1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان صدر کرزئی کی ملا عمر کو مکالمت کی دعوت

افغان صدر کرزئی نے عيد پر افغان قوم کے نام پيغام ميں طالبان قيادت سے اپيل کی ہے کہ وہ امن مذاکرات ميں حصہ لے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو افغانستان سے باہر منتقل کرنے کی اپيل کی، جس سے ان کی مراد پا کستان ہے۔

default

افغان صدر حامد کرزئی

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے عيدالفطر کے موقع پر افغان عوام سے خطاب کرتے ہوئے طالبان کے ليڈر ملا عمر سے اپيل کی ہے کہ وہ اُن کے امن منصوبے ميں شريک ہوں تاکہ افغانستان میں طويل جنگ کا جلد خاتمہ ہو سکے۔

افغان صدر نے اس موقع پر امريکہ کے ايک بہت چھوٹے سے چرچ کے پادری ٹيری جونز سے بھی اپيل کی کہ وہ قرآن کے نسخے جلانے کے منصوبے کو ترک کر ديں اور ایسا کرنے کے بارے میں سوچيں بھی نہيں کيونکہ يہ مسلمانوں کی توہين ہو گی۔

Gesucht: Mullah Mohammed Omar

طالبان کے روپوش رہنما ملا عمر

جونز کے قرآن جلانے کے اس منصوبے کے خلاف افغانستان ميں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور آج بھی ملک کے کئی صوبوں ميں شديد احتجاج کيا گيا۔ فيض آباد کے شہر ميں نماز عيد کے بعد ہزاروں افغان مظاہرين نے نيٹو کے فوجی اڈے پر پتھراؤ کيا اور ايک امريکی پرچم بھی نذر آتش کر ديا گيا۔

کرزئی کا عيد کا پيغام يہ ظاہر کرتا ہے کہ حال ہی ميں امن کی اعلیٰ کونسل قائم کرنے کے بعد سے وہ تقريباً نو سال سے باغيانہ جنگ لڑنے والے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں ميں اور اضافہ کر رہے ہيں۔ انہوں نے ملا عمر سے کہا کہ وہ اور اُن کے ساتھی ہتھيار ڈال ديں۔ کرزئی نے کہا، ’’ہميں اميد ہے کہ ملا محمد عمر اخوند قيام امن کے عمل ميں شريک ہو جائيں گے۔ بم حملے بند کر ديں گے اور افغان بچوں، عورتوں اور مردوں کو ہلاک کرنا بند کر ديں گے۔‘‘

صدر کرزئی کے دفتر کی طرف سے اعلان کيا گيا ہے کہ امن کی اعلیٰ کونسل کا قيام امن مذاکرات کے سلسلے ميں ايک اہم قدم ہے۔ يہ کرزئی کی طرف سے طالبان کی قيادت کے ساتھ مذاکرات کی سمت ميں اب تک اٹھايا جانے والا سب سے بڑا قدم ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے۔

حامد کرزئی کے امن کی اعلیٰ کونسل قائم کرنے کے منصوبے کو جون ميں کابل ميں ہونے والے ايک ایسے امن جرگے ميں منظور کيا گيا تھا، جس ميں ملک بھر سے مقامی، قبائلی، مذہبی اور سياسی رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ يہ اعلیٰ امن کونسل افغان معاشرے کے وسيع تر طبقوں کی نمائندگی کرتی ہے اور اس ميں تقريباً 50 سماجی نمائندے شامل ہيں۔

Militärausrüstung von Taliban Afghanistan

افغانستان ميں طالبان سے ضبط کيا جانے والا اسلحہ

اس کا مقصد طالبان سے امن مذاکرات کرنا ہے۔ تاہم طالبان افغان حکومت کو امريکی کٹھ پتلی قرار ديتے ہوئے اُس کی ان پيشکشوں کو کئی بار رد کر چکے ہيں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ امن مذاکرات پر اُس وقت تک راضی نہيں ہوں گے، جب تک غير ملکی افواج افغانستان سے نکل نہيں جاتيں۔

کرزئی نے اپنے عيد کے پيغام ميں غير ملکی افواج سے پھر کہا کہ وہ طالبان کے خلاف ان کی حکومت کی حفاظت کريں اور افغانستان کے باہر پاکستان ميں عسکريت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کريں۔

بہت سے دوسرے افغانوں کی طرح کرزئی کا بھی يہی کہنا ہے کہ طالبان، دوسرے عسکريت پسند اور اُن کے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے حامی پاکستان سے حملے کر رہے ہيں اور اس لئے دہشت گردی کے خلاف ميدان جنگ افغانستان سے باہر منتقل کیا جانا چاہئے، جس سے ان کی مراد واضح طور پر پاکستان ہی ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس