1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان صدر کرزئی کی جانب سے پاکستانی سرزمین پر حملوں کی دھمکی

آج دارالحکومت کابل میں صدر حامد کرزئی نے اپنے صدارتی محل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اِس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔

default

افغان صدر حامد کرذئی کی ایک فائل تصویر

اِس کانفرنس میں کرزئی درحقیقت حال ہی میں پیرس میں منعقدہ بین الاقوامی ڈونرز کانفرنس برائے افغانستان کے نتائج سے آگاہ کرنا چاہتے تھے لیکن پھر اِس کانفرنس پر قندھار کی جیل پر طالبان کے حملے اور اِس کے نتیجے میں تقریباً چار سو طالبان سمیت کوئی گیارہ سو قیدیوں کے فرار کا موضوع غالب آ گیا۔

کرزئی نے اِس واقعے کو انتہائی ناخوشگوار قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ حکومت کو درپیش چیلنجوں اور اُس کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے میں یہ بات اور بھی اہم ہو جاتی ہے کہ افغان اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کو مضبوط بنایا جائے۔ کرزئی نے کہا کہ دہشت گردی سب کا مسئلہ ہے اور اِس کے خلاف جنگ اور بھی زیادہ عزم کے ساتھ لڑی جانی چاہیے۔

قندھار کی جیل پر حملے کے سلسلے میں طالبان نے تمام تر جزیات کا خیال رکھتے ہوئے تیاریاں بھی کیں اور تقریباً تیس طالبان نے یہ حملہ کیا بھی انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ۔ قندھار کی جیل پر حملہ کرزئی کے لئے اِس وجہ سے بھی باعثِ شرمندگی ہے کیونکہ اِس سے ایک بار پھر یہ واضح ہو گیا ہے کہ ملک کے وسیع تر حصے اب بھی کرزئی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرحد سے ملحقہ قندھار صوبہ اُن طالبان چھاپہ ماروں اور القاعدہ جنگجوؤں کی کارروائیوں کا نشانہ بن رہا ہے، جو حملے کرنے کے بعد فرار ہو کر واپس پاکستان چلے جاتے ہیں۔ آج کی پریس کانفرنس میں صدر کرزئی نے یہ بھی شکوہ کیا کہ اُن کا ملک ایک ایسی دہشت گردی کا شکار ہے، جس کی جڑیں پاکستان میں ہیں۔

پاکستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کررئی نے کہا کہ افغانستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اگر پاکستان سے چھاپہ مار افغانستان آ کر افغانوں اور غیر ملکی فوجیوں کو ہلاک کرتے ہیں تو افغانیوں کو بھی پاکستان جا کر ایسا ہی کرنے کا حق حاصل ہے۔ سخت غصے کے ساتھ کرزئی نے کہا کہ افغانوں کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ ہزاروں افراد افغانستان بھیجے جا رہے ہیں، جو افغانوں کے گھر اور اسکول جلا رہے ہیں۔

کرزئی نے پاکستان میں خاص طور پر تین طالبان رہنماؤں بیت اللہ محسود، ملا فیض اللہ اور ملا عمر کا نام لیا اور کہا کہ اِن کے ساتھ ساتھ حکومتِ پاکستان کو بھی جان لینا چاہیے کہ کابل حکومت جہاں بھی ہو سکا، اِن طالبان رہنماؤں اور اِن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گی۔