1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان صدر کرزئی کی برطانوی وزیر اعظم کیمرون سےملاقات

نو منتخب برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ ان کی حکومت افغانستان کے ساتھ ’مزید مضبوط تعلقات‘ کی خواہاں ہے۔ کیمرون نے یہ بیان آج افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد دیا۔

default

افغان صدر حامد کرزئی

وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد کیمرون کی کسی غیر ملکی رہنما سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے ایک روز قبل ہی برطانیہ کے نئے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے واشنگٹن میں اپنی امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن سےملاقات کی تھی، جس میں افغانستان ہی موضوع بحث رہا۔

برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے کہا کہ ’چیکیر‘ میں ہونے والی یہ ملاقات بہت خوشگوار رہی۔ انہوں نے کہا: ’’ وزیراعظم، افغان صدر کو ملاقات کی دعوت دینے پر کافی خوش تھے، اور یہ ان کی کسی بھی غیر ملکی رہنما سے پہلی سرکاری ملاقات تھی‘‘۔ حامد کرزئی اور کیمرون کی ملاقات کے دوران افغان صدر کے دورہ امریکہ کی کامیابیوں پر بات چیت کی گئی اور اس ماہ کے آخر میں ’افغان امن جرگہ‘ کی تیاریوں پر ہوئی۔

افغان صدر اپنے دورہ امریکہ کے بعد وطن واپس جاتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات کے لئے برطانیہ گئے تھے ۔ دورہ واشنگٹن کے دوران افغان صدر نے اوباما انتظامیہ کے ساتھ ’افغان جرگہ‘ اور بیس جولائی کو منعقد کی جا رہی کابل کانفرنس کے حوالے سے اہم معلومات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

Großbritannien Wahlen David Cameron Konservative

نومنتخب برطانوی ویزر اعظم ڈیوڈ کمیرون

برطانوی وزیراعظم کیمرون نے بھی افغانستان میں قیام امن کے لئے منعقد کی جا رہی ان دونوں ملاقاتوں کو اہم قرار دیا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں متعین برطانوی افواج کی خدمات کو سراہا اور ان کی قربانیوں کے لئے شکریہ ادا کیا۔ برطانوی حکام کے مطابق وزیراعظم کیمرون ، افغانستان کو ایک اہم اسٹریٹیجک پارٹنر سمجھتے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد بھی اپنے مؤقف کو دہرایا تھا کہ وہ حکومت سازی کے بعد افغانستان کو برطانوی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون سمجھیں گے۔ افغان صدر حامد کرزئی کی اس ملاقات کے بعد بھی برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ان کی حکومت افغانستان کے ساتھ مزید بہتر اور مضبوط تعلقات بنائے گی۔

خیال رہے کہ اس وقت افغانستان میں تقریبا دس ہزار برطانوی فوجی تعینات ہیں۔ان میں سے زیادہ تر جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ 2001ء میں افغانستان پر امریکی اتحادی افواج کے حملے کے بعد سے اب تک کل دو سو پچاسی برطانوی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM