1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان صدر کا دورہ پاکستان

حامد کرزئی اپنے دورہ پاکستان کے دوران افغانستان میں قیام امن کے لئے طالبان کے ساتھ مفاہمت کے منصوبے کے علاوہ متوقع طور پر طالبان رہنما عبدالغنی برادر کو افغان حکام کے حوالےکئے جانے پر مذاکرات کر سکتے ہیں ۔

default

افغان صدر حامد کرزئی

افغان صدرحامد کرزئی بدھ سے پاکستان کا دورہ شروع کررہے ہیں۔ وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دو روزہ دورے کے دوران افغان صدر اپنے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کےعلاوہ دیگر اعلیٰ حکومتی عہدے داروں سے ملاقات کریں گے۔

خیال کیا جارہا ہےکہ ان ملاقاتوں کےدوران اہم ایجنڈا’افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کا ممکنہ کردار‘ رہے گا۔ پاکستانی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان اور حکومت کے مابین مفاہمت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

دریں اثناء کئی افغان سیاستدان اس سلسلے میں پاکستانی کردار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا سوال یہ ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستانی کوششوں کے پیچھے چھپا ہوا ایجنڈا کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سوویت یونین کے ساتھ جنگ کے بعد افغانستان میں قیام میں آنے والی طالبان کی حکومت کے ساتھ پاکستانی حکومت کے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ کئی یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ اہم روابط کے باعث اسلام آباد حکومت، وہاں قیام امن کے لئے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

دریں اثناء پاکستانی حکومت نے حالیہ دنوں میں کئی اہم طالبان رہنماؤں کو پاکستان کی سر زمین سے گرفتار کر کے عالمی برادری کو یہ اشارہ دیا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان کافی کچھ کر سکتا ہے۔

کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ افغان صدر اپنے اس دورے کے دوران حکومت پاکستان سے باضابطہ درخواست کریں گے کہ حال ہی میں گرفتار کئے گئے طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کو افغان حکام کے حوالے کر دیا جائے تاکہ وہاں ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔ برادر کو گزشتہ ماہ ہی کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ افغان حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ طالبان باغیوں کے اس اہم سرکردہ رہنما کو کابل حکومت کے حوالے کر دیا جائے۔

Pakistans neuer Präsident Asif Ali Zardari

کرزئی پاکستانی صدر اور وزیر اعظم سے بھی ملاقاتیں کریں گے

پاکستانی ذرائع ابلاغ نے سفارت کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ افغان صدر، طالبان کے خلاف جاری جنگ میں اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں اور ان کی کوشش ہو گی کہ وہ برادر کو افغانستان منتقل کروانے میں کامیاب ہو جائیں تاکہ افغان عوام میں ان کا کھویا ہوا اعتماد کسی حد تک بحال ہو سکے۔

دونوں ممالک کے مابین گزشہ ماہ ہوئی وزرات داخلہ کی سطح کی ایک ملاقات میں کابل حکومت نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ برادر کے خلاف مقدمہ افغانستان میں چلایا جائے۔ اس ملاقات کے بعد پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اپنے افغان ہم منصب محمد حنیف عطمار کو یقین دلایا تھا کہ اگر اس حوالے سے کوئی باقاعدہ درخواست کی جاتی ہے تو اسلام آباد اس بارے میں ضرور غور کرے گا۔

اس بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ سعودی عرب کے انکار کے بعد حامد کرزئی ، طالبان سے مفاہمت کے لئے ،حکومت پاکستان کی خدمات کی درخواست سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے حال ہی میں افغان حکومت اورطالبان کے مابین مفاہمت کروانےسے انکار کیا تھا۔

واضح رہےکہ اٹھائیس جنوری کو لندن میں ہوئی بین الاقوامی افغانستان کانفرنس کے دوران حامد کرزئی نے کھلےعام پاکستان اور سعودی عرب سے مطالبہ کیا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن ڈیل کے لئے وہ اپنی اپنی خدمات پیش کریں۔

اس کانفرنس کے بعد افغان صدرنے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا تاہم سعودی فرماں رواں شاہ عبداللہ نے ایسی کوئی بھی مفاہمت کروانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اب افغان صدر کا دورہ پاکستان بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت : افسر اعوان

DW.COM