1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان صدر کا دورہ پاکستان، کئی اہم معاملات پر گفتگو متوقع

افغان صدر حامد کرزئی اپنے دورہء پاکستان کے دوران متوقع طور پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو تیز تر بنانے کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔ افغان صدر آج سے اپنے دورے کا آغاز کر رہے ہیں۔

default

افغان صدر کرزئی اور پاکستانی وزیر اعظم گیلانی

گزشتہ ایک عشرے سے دونوں ممالک کو دہشت گردی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی کا یہ دورہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد وہ پہلی مرتبہ اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

دو مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد افغان حکومت نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے ظاہر ہو گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان میں لڑی جانی چاہیے۔ افغان حکومت کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام پھیلانے میں پاکستان کی سرزمین پر موجود شر پسند عناصر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی اپنے اس دورے کے دوران اپنے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقاتیں کریں گے۔ ناقدین کے خیال میں کرزئی اور پاکستانی قیادت کے مابین ہونے والی ان ملاقاتوں میں کچھ پیش رفت کی امید کی جا سکتی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دوران پاکستان کی اعلیٰ قیادت افغان صدر کو یہ یقین دہانی کروائی گی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کےعمل میں اسلام آباد حکومت اثر انداز نہیں ہو گی۔

Karzai bemüht sich um Frieden

افغان صدر کا دورہ ء پاکستان کافی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے

گیارہ ستمبر 2001ء میں امریکہ پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں سے پہلے تک اسلام آباد حکومت افغانستان میں طالبان کی اہم پارٹنر سمجھی جاتی تھی۔ تاہم افغانستان میں امریکی حملے کے بعد پاکستان نے امریکہ کا اتحادی بننے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی دہشت گردانہ کارروائیاں شروع ہو گئیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں میں کچھ عناصر اب بھی بالخصوص شمالی وزیرستان کے جنگجوؤں سے رابطے میں ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں محفوظ ٹھکانے بنائے ہوئے جنگجو افغانستان سرحد پار کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

قبائلی امور کے ماہر اور سکیورٹی تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد زمینی صورتحال میں ایک بہت بڑی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ ان کے بقول اس واقعہ کے بعد افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے بداعتمادی کی فضا پیدا ہوئی ہے،’ قیام امن کی کوششیں جاری ہیں تاہم پاکستانی حکومت امریکہ اور طالبان کے براہ راست مذاکرات پر تحفظات رکھتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اس طرح پاکستان کو نظر انداز کر دیا جائے گا‘۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس