1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ، تیاریاں عروج پر

افغانستان میں سات نومبر کو صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لئے تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ افغان باشندے اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

default

زیادہ تر افغان انتخابات کے پہلے مرحلے میں ہونے والی دھاندلی سے مایوس نظر آتے ہیں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کے اگست منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوران دھاندلی میں ملوث 2 سو اہلکاروں کو ہٹاکر ان کی جگہ دوسرے اہل کار مقرر کریں گے تاکہ انتخابات کا دوسرا مرحلہ شفاف اور درست طریقے سے منعقد ہو سکے۔ سات نومبر کو صرف دو امیدوار میدان میں ہوں گے، موجودہ صدر حامد کرزئی اور سابق وزیرخارجہ عبداللہ عبداللہ۔ عبداللہ عبداللہ دوسرے انتخابی مرحلے کے حوالے سے کہتے ہیں: "اس سے نہ صرف افغانستان میں جمہوریت کو مدد ملے گی بلکہ افغانوں کی قسمت بدلے گی اور جمہوریت کا عمل بھی مظبوط ہو گا۔"

Ban Ki-moon, neuer UN-Generalsekretär

بان کی مون نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو شفاف بنانے کی بھر پور یقین دھانی کروائی ہے

چند ایک افغان بھی ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ کے ہم خیال نظر آتے ہیں۔ کابل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم صادق کا کہنا ہے: "ظاہر ہے میں ووٹ ڈالنے کے لئے جاؤں گا۔ افغانستان کو بالآخر تبدیلی کی ضرورت ہے۔"

لیکن صادق جیسے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ زیادہ تر افغان انتخابات کے پہلے مرحلے میں ہونے والی دھاندلی سے مایوس نظر آتے ہیں۔ "یہ سب کچھ جھوٹ اور فراڈ ہے اوراسی وجہ سے میں ووٹ ڈالنے نہیں جاؤں گا۔" کچھ ایسا ہی خیال اسد کے دوست فرشتہ کا بھی ہے۔ "ہمارے ملک میں اصل جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔"

افغانستان کے رکن قومی اسمبلی داؤد سلطان زئی کے مطابق 17 دن انتخابات کی تیاری کے لئے بہت ہی کم وقت ہے۔ شفاف انتخابات کے لئے ایک باقاعدہ نظام اور وقت کی ضرورت ہے۔ جبکہ دوسری طرف الیکشن کمیشن اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات کے لئے تیار ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق اس تمام تر تیاری کے باوجود بھی دھاندلی کے امکانات موجود ہیں۔

افغانستان کے دوردرازعلاقوں میں طالبان کے حملوں کے ڈر سے پولنگ اسٹیشن کم وقت کے لئے ہی کھولے جائیں گے اور ان پولنگ اسٹیشنوں کی نگرانی بھی ناممکن ہے۔ بعض ماہرین کے خیال میں ہوسکتا ہے کہ 7 نومبر کے انتخابات کے بعد افغانستان کا سیاسی بحران مزید ابتر ہو جائے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: امجد علی