1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان صدارتی انتخابات، ٹی وی مباحثہ

صدارتی انتخابات سے قبل ٹی وی پر ہونے والے ایک مباحثے میں حامد کرزئی کے مخالف امیدواروں نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کے وار لارڈز کے ساتھ تعلقات ہیں۔

default

حامد کرزئی افغان صدارتی انتخابات میں سب سے مضبوط امیدوار دکھائی دیتے ہیں

جمعرات 20 اگست کو افغانستان میں انتخابات منعقد ہو رہے ہیں اور ان سے قبل صدارتی دوڑ میں شامل امیدواروں کی بھرپور مہم جاری ہے۔ اتوار کو ایک ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک مباحثے میں حامد کرزئی کے مد مقابل سابق وزیر رمضان باشردوست اور اشرف غنی احمد زئی نے الزام عائد کیا کہ افغان صدر حامد کرزئی کے جنگی سرداروں سے تعلقات قائم ہیں۔ نوے منٹ تک جاری رہنے والے اس مباحثے میں کرزئی نے جنگی سرداروں سے اپنے تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ملکی سلامتی کا تقاضا تھا اور ضرورت پڑی تو وہ مستقبل میں بھی ایسا ہی کریں گے۔

کرزئی نے صدارتی انتخابات میں تاجک نسل محمد قاسم فہیم کو اپنی جانب سے نائب صدر کے عہدے کے لئے امیدوار مقرر کیا ہے۔ قاسم فہیم ماضی میں جنگی سردار رہے ہیں۔

Wahlen Afghanistan 2009 Flash-Galerie

افغانستان میں صدارتی انتخابات سے قبل انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے

سابق وزیر منصوبہ بندی اور بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والی ایک این جی او کے سرگرم رکن باشردوست نے کہا:’’ یہاں جو لوگ ان جنگی سرداروں سے لڑنے کے دعوے کر رہے ہیں۔ ان کے نہ صرف ان سرداروں سے تعلقات ہیں بلکہ یہی جنگی سردار ان لوگوں کی صدارتی مہم بھی چلا رہے ہیں۔ افغان عوام کے لئے یہ ناقابل برداشت ہے۔‘‘

سابق وزیر خزانہ اشرف غنی نے بھی اس الزام میں باشردوست کی تائید کرتے ہوئے کہا: ’’میں نے کسی وار لارڈ سے کوئی ایسا معاہدہ نہیں کیا کہ مجھے بعد میں اسے کوئی وزارت یا کسی صوبے کی گورنری دینی پڑے۔‘‘

تاہم کرزئی کا اس سلسلے میں جواب تھا:’’اگر قومی مفاد کے لئے، ترقی کے لئے، قومی اتحاد کے لئے، جنگ سے بچنے کے لئے ایسی ضرورت پڑتی ہے کہ ان افراد سے بات چیت کی جائے۔ تو میں ایک مرتبہ پھر ایسا ہی کروں گا۔ میں ایسا ایک ہزار مرتبہ کروں گا۔‘‘

ٹی وی پر نشر ہونے والے اس مباحثے میں کرزئی کے مدمقابل مضبوط امیدوار عبداللہ عبداللہ شریک نہیں ہوئے۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات سے قبل ہونے والے عوامی جائزوں میں حامد کرزئی بہرحال مضبوط پوزیشن پر ہیں اور ان کے بعد سب سے مضبوط امیدوار عبداللہ عبداللہ ہیں۔

دریں اثناء افغانستان پر سویت حملے کے بعد سویت فوجوں کے خلاف جنگ میں شریک ایک جنگی سردار عبدالرشید دوستم بھی ایک سالہ جلا وطنی ختم کر کے قابل پہنچ گئے ہیں۔ عبدالرشید دوستم افغان صدر حامد کرزئی کے ماتحت فوجی سربراہ کے طور بھی کام کرچکےہیں، تاہم پچھلے برس وہ خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرتے ہوئے ترکی چلے گئے تھے۔

ازبک نسل عبدالرشید دوستم کی وطن واپسی کے حوالے سے کابل میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سوالات بہرحال اپنی جگہ موجود ہیں کہ دوستم انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث رہے ہیں۔

اسی دوران اتوار کو طالبان کی جانب سے ایک مرتبہ پھر افغان عوام کو کہا گیا ہے کہ وہ صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔ دوسری صورت میں انہیں حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

رپورٹ عاطف توقیر

ادارت افسر اعوان

DW.COM