1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان صدارتی انتخابات سے قبل تشدد کی نئی لہر

افغانستان میں زبردست حفاظتی انتظامات کے باوجود صدارتی انتخابات سے قبل طالبان کی جانب سے کابل سمیت کئی مقامات پر حملے ہوئے ہیں۔

default

’’بڑی تعداد میں سیکیورتی فورسز کے اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود یہ حملے سمجھ سے بالا تر ہیں۔‘‘

کابل میں تازہ ترین حملہ مرکزی صدارتی دفتر کے قریب ایک بینک پر ہوا۔ اس حملے میں دھماکہ خیز مواد کے ساتھ ساتھ خودکار ہتھیار بھی استعمال ہوئے۔

طالبان کی جانب سے افغان عوام کو انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنے کی صورت میں حملوں کا نشانہ بنانے کے علاوہ سنگین سزائیں دینے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔

Anschlag in Afghanistan, Laschkar Ga

’’انتخابات سے قبل افغان دارالحکومت کسی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہا ہے۔‘‘

دوسری جانب افغان حکومت کی جانب سے ایک بیان میں میڈیا سے کہا گیا ہے کہ وہ انتخابات کے روز ہونے والے کسی حملے یا پرتشدد کارروائی کو رپورٹ نہ کرے۔ حکومت کا خیال ہے کہ ایسے حملوں کی کوریج سے انتخابات میں ٹرن آؤٹ پر فرق پڑسکتا ہے اور خوف کے ماحول میں عوام اپنا ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ سٹیشنوں کا رخ نہیں کریں گے۔

افغانستان میں بھارتی نجی ٹی وی چینل سہارہ سمیے سے وابستہ صحافی بلال بھٹ نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ انتخابات سے قبل کابل ایک چھاونی کا منظر پیش کر رہا ہے اور کچھ روز قبل تک افغان عوام میں انتخابات کے حوالے سے جو جوش و خروش دیکھا جا رہا تھا، وہ عسکریت پسندوں کے پے در پے حملوں کے باعث خاصا ماند پڑ گیا ہے۔

بلال بھٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان، بالخصوص کابل میں اتنی بڑی تعداد میں فوج، نیم فوجی دستے ، پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی موجودگی میں ایسے حملے سمجھ سے بالا تر دکھائی دیتے ہیں۔

بلال بھٹ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ان حملوں کے باعث خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے اور کابل میں بہت کم افراد سڑکوں پر دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی تمام بڑی مارکٹیں اور دکانیں بند ہیں اور ایک طرح سے کرفیو کا سا سماں ہے۔

بلال بھٹ کا مذید کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے اور انتخابات سے قبل طالبان ایسے حملوں سے نہ صرف اپنی موجودگی ظاہر کر رہے ہیں بلکہ اپنی طاقت کا بھی مظاہرہ کرتے نظر آرہے ہیں۔

بلال بھٹ کے مطابق ان حملوں کے باعث افغان حکومت خاصی پریشان اور دباؤ کا شکار ہوگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ صحافیوں، خبر رساں اداروں اور ملکی و غیر ملکی میڈیا کو پرتشدد واقعات کی رپورٹنگ نہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : گوہر نذیر

DW.COM

Audios and videos on the topic