1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان شیعہ مہاجر، شام میں لڑائی کے لیے بھرتی

کابل سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کا معاملہ، جن میں سے ایک شدید زخمی جبکہ دوسرا شام میں لڑتے ہوئے ہلاک ہو چکا ہے، اس بات کی ایک مثال ہے کہ کیسے ایران افغان مہاجرین کو شامی صدر بشار الاسد کی مدد کے لیے بھرتی کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شیعہ مسلمانوں کی اکثریت والا ملک ایران شامی صدر بشار الاسد کا معاشی اور فوجی لحاظ سے سب سے بڑا حلیف ہے۔ تاہم ایران کی طرف سے اس بات کی تردید کی جاتی ہے کہ وہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افغان مہاجرین کو شام میں سنی باغیوں کے خلاف لڑنے کے لیے بھیج رہا ہے۔ شام میں چار برس سے جاری خانہ جنگی اب تک 240,000 لوگوں کی جان لے چکی ہے جبکہ کئی ملین لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق تاہم افغان جنگجوؤں اور شام میں مارے جانے والوں کے رشتہ داروں سے انٹرویوز سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کی انقلابی گارڈز کس طرح شیعہ ہزارہ مہاجرین کو بعض اوقات زبردستی یا ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں بشارالاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

جہاں تاب نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے جب اپنے 35 سالہ شوہر حیدر کے ان آخری الفاظ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں شدت غم سے بھیگ گئیں۔ حیدر نے اپنی بیوی کو ٹیلیفون پر آگاہ کیا، ’’میں شام جا رہا ہوں۔۔۔ اور میں شاید واپس نہیں آؤں گا۔‘‘ کابل میں واقع اپنے گھر کے فرش پر اپنے تین ننھے بچوں کے ساتھ بیٹھی جہاں تاب کے مطابق حیدر کا اس آخری فون کال میں مزید کہنا تھا، ’’بہت کم جنگجو شام کے خونی تنازعے میں بچ پائے ہیں۔‘‘

اس کا کہنا تھا کہ حیدر کو 700 امریکی ڈالرز تنخواہ کا لالچ دیا گیا تھا جو ایک مزدور کے لیے بڑی رقم تھی اس کے علاوہ اسے ایران میں رہائش کا پرمٹ دینے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ ایران میں بے یقینی کی کیفیت اور ملک بدر کیے جانے کے خطرے سے دو چار کسی افغان کے لیے یہ بڑی کشش ہے۔

ایران میں رہائشی پرمٹ کی منتظر جہانتاب نے اپنا مکمل نام شائع نہ کرنے کی درخواست کے ساتھ مزید بتایا، ’’میں نے گِڑگِڑا کا اسے کہا کہ مت جاؤ، پیسوں کے لیے خود کو ہلاک نہ کرو۔‘‘حیدر کا خیال درست ثابت ہوا اور اس کے شام جانے کے کچھ دن بعد ایرانی حکام نے تہران میں موجود اس کے مہاجر رشتہ داروں کو آگاہ کیا کہ حیدر جنگ میں ہلاک ہو گیا ہے۔

سمتھ کے مطابق بعض کو لڑنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے جبکہ دیگر کو خاندان سمیت ایران میں رہائش کے کاغذات دینے کا لالچ

سمتھ کے مطابق بعض کو لڑنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے جبکہ دیگر کو خاندان سمیت ایران میں رہائش کے کاغذات دینے کا لالچ

شیعہ عسکریت پسند گروپوں کے بارے میں آگاہی رکھنے والے فلپ سمتھ کے مطابق، ’’جس طرح ان کو بھرتی کیا جاتا ہے، تعینات کیا جاتا ہے اور شام میں استعمال کیا جاتا ہے، زیادہ تر افغان شیعہ جنگجوؤں کی قسمت بطور ’توپ کا ایندھن‘ استعمال ہوتا ہے۔‘‘ سمتھ کے مطابق اس وقت دو ہزار سے لے کر ساڑھے تین ہزار تک افغان شام میں لڑ رہے ہیں: ’’بعض کو لڑنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے جبکہ دیگر کو خاندان سمیت ایران میں رہائش کے کاغذات دینے کا لالچ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران کس طرح شیعہ مہاجرین کا استحصال کر رہا ہے۔‘‘

اے ایف پی کے مطابق تاہم کابل میں موجود ایرانی سفارت خانے نے افغان مہاجرین کو شام میں لڑنے کے لیے بھرتی کرنے کی خبروں کو ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ قرار دیا۔ اے ایف پی کے مطابق بعض افغان شیعہ مہاجرین اپنی مرضی سے بھی اپنے مسلک کے تحفظ کے لیے شام جاتے ہیں جن میں سے سب سے بڑی بات سیدہ زینب کے مزار کی حفاظت ہے جو دمشق کے مضافات میں واقع ہے۔ اے ایف پی کے مطابق اس مقصد کے لیے ایرانی پشت پناہی سے ’فاطمیون بریگیڈ‘ تشکیل دی گئی جس میں افغانیوں کے علاوہ، عراقی، لبنانی اور پاکستانی شیعہ عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔