1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغان سکھوں کے لئے بھارت میں روزگار محال

بھارت میں اس وقت نو ہزار کے قریب ایسے ہندو اور سکھ موجود ہیں، جو افغانستان کے حالات کے پیش نظر وہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہ لوگ زندگی گزارنے کے لئے تلاش روزگار میں سرگرداں ہیں۔

default

62 سالہ اردت سنگھ 1992ء میں روس نواز حکومت کے خاتمے کے بعد کابل چھوڑ کر نئی دہلی پہنچ گئے۔ اردت کے مطابق تب افغانستان میں 20 ہزار کے قریب ہندو اور سکھ رہائش پذیر تھے۔ 1997ء میں طالبان حکومت کے بعد ایسے ہندو اور سکھ خاندانوں نے بڑی تعداد میں بھارت کا رُخ کیا۔ اردت سنگھ کے مطابق آج کل افغانستان میں ہندوؤں اور سکھوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہے۔

اردت سنگھ افغانستان سے نقل مکانی کر کے بھارت پہنچنے والے سکھوں کی بہبود کے لئے ایک این جی او چلا رہے ہیں۔ سنگھ کے مطابق ایسے افراد کو دو انتہائی اہم مسائل درپیش ہیں۔ ان میں سرفہرست تلاش روزگار ہے جبکہ دوسرا اور اہم مسئلہ بھارتی شہریت حاصل کرنے کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مناسب ملازمتوں کے نہ ملنے کا بڑا سبب بھی بھارتی شہریت کا نہ ہونا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں خود بھارتی شہریت کے حصول کے لئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس کے لئے بنیادی شرائط میں سے ایک کم از کم 12 برس تک بھارت میں رہائش یا کسی بھارتی سے شادی کی صورت میں سات برس رہائش کا ثبوت فراہم کرنا ہے۔ مزید یہ کہ آپ کی اس رہائش کے اِس ثبوت کا قانونی ہونا لازمی ہے، جو کہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ رہائشی اجازت نامہ یا ریزیڈینس پرمٹ کی صورت میں ہوتا ہے۔

Taliban, Archivbild

افغان صوبہ قندھار کو طالبان کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

اردت سنگھ کے مطابق افغانستان سے بھارت پہنچنے والے بہت سے سکھ اور ہندو بہت غریب ہیں۔ اس وجہ سے وہ یہ قانونی شرائط پوری نہیں کر پاتے اور اسی لئے بھارتی شہریت حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے چار دیگر افراد کے ساتھ سال 2003ء میں شہریت کے لئے درخواست دی تھی۔ انہیں، اُن کی بیٹی اور بیٹے کو تو شہریت مل گئی مگر ان کی بیوی کو بھارتی شہریت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ سنگھ کے مطابق یہ صرف ایک مثال نہیں ہے بلکہ ایسے بہت سے کیسز موجود ہیں۔

بھارتی شہریت حاصل کرنے کے لئے اس لمبے انتظار اور دیگر مشکلات کے سبب بہت سے لوگ اس کے لئے کوشش ہی نہیں کرتے۔ اردت سنگھ کے مطابق جب آپ ایک مرتبہ شہریت کے لئے درخواست جمع کرا دیتے ہیں، تو پھر تمام کارروائی مکمل ہونے تک آپ بھارت نہیں چھوڑ سکتے۔ ایسے بہت سے کیسز ہیں، جن میں بیوی نے تو شہریت کے لئے درخواست دے رکھی ہے مگر شوہر نے واپس جانے کی امید میں نہیں دی۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے UNHCR سے وابستہ نایانا بوس کے مطابق شہریت کے حصول کی یہ کارروائی نسبتاﹰ لمبی ہے کیونکہ جب آپ ایک مرتبہ درخواست جمع کرا دیتے ہیں تو پھر اس میں دو سے تین سال کا وقت لگ جاتا ہے۔ بوس کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام تر کارروائی کی تکمیل کے لئے یہ درخواست مختلف حکومتی اداروں کے پاس جاتی ہے۔

بھارتی شہریت حاصل کرنے سے متعلق مسائل اور روزگار کی تلاش میں مشکلات کے باوجود قندھار سے بھارت جانے والے نریندر سنگھ نے بتایا کہ بھارت میں موجود افغان سکھوں اور ہندوؤں میں سے اکثر کی خواہش بھارت ہی میں مستقل آباد ہونے کی ہوتی ہے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : امجد علی

DW.COM

ویب لنکس